محراب اپنی جگہ پر نہ ہو تو نماز کا کیا حکم ہے

      


        
               السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ مسجد میں محراب اس طرح بنا ہوا ہے کہ ایک طرف پندرہ مقتدی کھڑے ہو سکتے ہیں اور دوسری طرف دس ہی تو کیا اس طرح سے نمازیوں کے نماز میں کوئی خامی آئیگی اور کیا اس طرح محراب بنوانا درست ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

المستفتی محمد ابو بکر صدیق قادری منظری خطیب و امام مسجد سادات نزد بيگ ہسپتال نینی تال روڈ


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب 

 امام کاوسط مسجدمیں کھڑاہونا سنت ہےمسجدمیں محراب جورہتاہےوہ وسط مسجد سےہی رہتاہے 

اسی لئے فقہاءکرام نےبیان فرمایاکہ امام محراب میں کھڑاہوتاکہ دونوں طرف برابر رہے 

اوراگرمحراب وسط مسجدسےالگ بن گیاہے توامام کوچاہئے کہ حکم دےکہ محراب کوتبدیل کیاجائے اورجب تک محراب کوتبدیل نہیں کیاجاتاہےجب تک امام صف اول میں کھڑےہوکرنمازپڑھائےتاکہ دونوں طرف برابررہےہاں جمعہ وغیرہ میں لوگوں کی تعدادزیادہ رہتی ہوتووہ وہاں کھڑےہوکرنمازپڑھائےنمازہوجائےگی لیکن مکروہ تنزیہی ہوگی کیونکہ سنت کاترک مکروہ تنزیہی ہے

اورامام کااس طرح کھڑاہوناکہ پندرہ مقتدی ایک طرف ہواوردس مقتدی ایک طرف تویہ مکروہ ہے

جیساکہ ردالمختار باب الامامۃ میں ہے

السنۃ ان یقوم الامام فی المحراب لیعتدل الطرفان وتعقیبش بقول اوولوقام فی احدجانبی الصف یکرہ

کہ اگرکسی ایک جانب مقتدی کم اوردوسری جانب مقتدی زیادہ ہوتویہ مکروہ ہے


                   واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

            محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے