جو ماں باپ کی نافرمانی کریں اسکے پیچھے نماز ادا کرنا کیسا ہے


            السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ

سوال کيا فرماتے ھیں علماء کرام مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک شخص جو کہ حافظِ قُرآن بھی ہیں اور امام کے نہ رہنے پر نماز بھی پڑھاتے ہیں اور پروگرام میں بھی جاتے ہیں اپنے والدین کو ایک جھگڑے میں نا زیبا کلمات کہے جیسے کہ میرے ماں باپ نے اگر مجھ کو پیدا کیا تو مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اپنی خواہش پوری کی اور سارے تعلقات توڑ دیا یہاں تک کہ بول چال میل ملاپ تک ترک کر دیا یہاں تک کہ جب ماں کی طبیعت خراب ہوئ وقتِ آخر ہوا تو ماں کو دیکھنے ببھی نہیں گیا پھر جب ماں کا انتقال ہو گیا تو گھر پر بھی نہیں گیا پھر بعد میں قبرستان میں گیا نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تو لوگوں نے نماز پڑھانے سے منع کر دیا کچھ اور باتیں بھی ہیں جنہیں یہاں بیان کرنا مناسب نہیں ۔۔اب دریافت یہ ہے کہ ایسے شخص کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے نیز یہ بھی اپنی محفلوں میں بلانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟برائے کرم علماء کرام جواب عطا فرماکر عنداللہ ماجور ہوں

سائل مولانا محمد شفیق الرحمن ضیایئ مدرسہ جامعہ نوریہ گلشن اسلام تھانہ تھان گاؤں سیتاپورـ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

               الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

باپ کی نافرمانی اللہ جَبَّار و قَہَّار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جَبَّار و قَہَّار کی ناراضی ہے، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اُس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اُس کے دوزخ ہیں۔*(📘فتاویٰ رضویہ،ج24، ص384)*اگر والد سے بیٹے کا حق ادا کرنے میں کوتاہی اور قصور ہوگیا (توبھی) والد کے حُقوق (بیٹے پر) بَحال (یعنی برقرار) ہیں، وہ بیٹے سے کبھی ساقِط (یعنی معاف) نہیں ہوسکتے۔(📗فتاویٰ رضویہ،ج24، ص371)*✒️ جیسا کہ اللّٰه جل شانہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ 👇📖وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسٰنَ بِوَالِدَيۡهِ‌ۚ حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِىۡ عَامَيۡنِ اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ_تـــــــــــرجـــــــمــــــہ👇*اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہےــــــــــــــ القرآن - سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 14*اور جیسا کہ اللّٰه تبارک وتعالیٰ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے کہ 👇📖وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏_تـــــــــــرجـــــــمــــــہ👇*اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا (📖تفسیر ابنِ کثیر - سورۃ نمبر 17الإسراءآیت نمبر 23)اسی طرح سے حدیث پاک میں ہے کہ 👇*حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ.
تـــــــــــرجـــــــمــــــہ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ایاس جریری نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔(📗صحیح بخاری حدیث نمبر: 6273) اور جیسا کہ دوسری جگہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ 📖حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟قُلْنَا:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:‏‏‏‏ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِوَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِفَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا يَسْكُتُ._تـــــــــــرجـــــــمــــــہ*مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد واسطی نے بیان کیا، ان سے جریری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہوجاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی (سب سے بڑے گناہ ہیں) آگاہ ہوجاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم ﷺ اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم ﷺ نہیں ہوں گے۔(📗صحیح بخاری کتاب: ادب کا بیان حدیث نمبر: 5976)*✒️لہذا اسکے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی یعنی دہرانا واجب ہے لہذا اسے امام نہ بنایا جائے یا پھر اعلانیہ توبہ کرے

              واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی جامع مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

              اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے