نوافل نمازیں باجماعت ادا کرنا از روئے شرع کیســـاھے


             السلام علیکم و رحمۃ ﷲ وبرکاتہ

سوال۔۔۔ صلٰوۃ التصبیح کی نماز کے لیے جماعت کرسکتے ہیں جماعت کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو شخص تنہا نہیں پڑھتا وہ جماعت کے ساتھ پڑھ لیگااس بارے میں قرآن و حدیث کا کیا قول ہے۔ 

               الســــاٸل محمد رضوان رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

          الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سرکاراعلی احضرت امام احمدرضامحدث بریلوی رضی اللہ ربہ القوی اسی طرح کےایک سوال کےجواب میں فرماتےہیں کہ تراویح وکسوف واستسقاءکےسواجماعت نوافل میں ہمارےائمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کامذہب معلوم ومشہوراورعامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہےکہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اورتداعی کےساتھ مکروہ تداعی کسےکہتےہےفرماتےہیں تداعی کہتےہیں بلاناجمع کرنااوراس سے کثرت جماعت لازم آتی ہےپھراس کی تحدید کےمتعلق چندائمہ کرام کی عبارتیں نقل کرنےکےبعد تحریر فرماتے ہیں بالجملہ دومقتدیوں میں بالاجماع جائزہےاورپانچ میں بالاتفاق مکروہ اورتین وچارمیں اختلاف نقل ومشایخ اوراصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں نہیں چارمیں ہے تومذہب مختاریہ نکلاکہ امام کےسواچاریازائدہوتوکراہت ہےورنہ نہیں درمختارمیں فرماتےہیں یکرہ ذلک لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ واحدا پھراظہریہ کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہےخلاف اولیٰ لمخالفۃ التوارث نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو(فتاوی رضویہ جلدسوم صفحہ 464) معلوم ہواکہ صلاۃ التسبیح اورتہجدکی نمازجماعت سےپڑھنا ناجائزوگناہ وممنوع نہیں ہے بلکہ صرف مکروہ تنزیہی خلاف اولیٰ ہے لہذاان نمازوں کوجماعت کےساتھ پڑھنے کیلئےلوگوں پردباؤڈالناغلط ہےاورجماعت سےپڑھنےپرفسادبرپاکرناگناہ ہے( ماخوذ فتاوی برکاتیہ صفحہ 297مکتبہ فقیہ ملت دہلی) 

                  واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

               اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے