سر پر رومال باندھ کر نماز ادا کرنا از روئے شرع کیســـاھے


             السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ دستی یا رومال وغیرہ سرپر باندھ کرنماز پڑھنے سے نماز ہوجاۓ گی کیونکہ آج کل کسی کے پاس ٹوپی نہیں ہوتی ہے تو وہ کسی کا بھی رومل مانگ کر نماز جمعہ یانماز جنازہ اداکرلیتے ہیں تو ہوجاۓ گی رہنمائ فرمائیں علماۓ اہلسنت

                الســــاٸل محمد ایوب شیخ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ

            الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

عموما جو رومال یعنی دستی باندھ کر نماز پڑھتے ہیں اس سے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ نے نماز میں کپڑا موڑنے کو منع فرمایا ہے یونہی بڑا رومال جو اکثر دیہاتی رکھتے ہیں اور سرپر مثل عمامہ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں اور وہ اتنا بڑا ہے کہ تین پیچ ہوسکے اور اسکے نیچے ٹوپی بھی ہو تو نماز ہوجائے گی اور اگر چھوٹا ہے کہ تین پیچ نہیں ہوتا یا اس کے نیچے ٹوپی نہیں ہے جب بھی مکروہ ہے کہ یہ عمامہ کے حکم میں نہیں ہے سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ، رومال اگر اتنا بڑا ہو کہ تین پیچ آ سکے جو سر کو چھپا لیں تو وہ عمامہ ہی ہو گیا چھوٹا رومال جس سے دو یا ایک پیچ آ سکے لپیٹنا مکروہ ہے اور بغیر ٹوپی کے نا عمامہ چاہیے نا رومال. ( فتاویٰ رضویہ جلد 7 صفحہ نمبر 299)

            واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیزمحمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی جامع مسجدحضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند 

الجواب صحیح فقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی ارشدی اترولوی

              اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

3 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ