مسلمان کو کافر کہنا از روئے شرع کیســـاھے


            السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں. زید اور بکر کے درمیان لڑائی ہوئی اسی دوران زید نے بکر کو کافر کہا پھر بکر نے بھی زید کو کافر کہا، تو کیا بکر پر توبہ کرےگا یا نہیں اگر کرےگا تو کیسے؟ حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں.

                   سائل محمد عمران رضا قادری 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
               وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                  الجواب بعون الملک الوھاب

کسی مسلمان کو کافر کہنا خود کفر میں مبتلا ہونا ہے جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے اگر کوئی شخص ایسے شخص کو کافر کہے جو حقیقت میں مسلمان ہے تو کفر اسی پر پلٹ آتا ہے اور اسے کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ایما رجل قال لا حیہ کفر فقد باء بھا احدھما یعنی جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو اس کا کفر خود اس پر پلٹ آیا (مشکوۃ المصابیح صفحہ نمبر 411)اس حدیث کے تحت حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری تحریر فرماتے ہیں کہ رجل الیہ تکفیر لکونہ جعل اخاء المومن کافرا فکلفہ کفر نفسہ اھ مخلصاً (مرقاۃ جلد 9 صفحہ نمبر 137)(مخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت جلد 1 صفحہ نمبر 07) اور اگر بطور گالی کافر کہا ہے تو کفر کا حکم نہ ہوگا اور سوال سے یہی ظاہر ہے لہذا زید و بکر دونوں پر لازم ہے کہ توبہ کر لیں ایک دوسرے سے معافی مانگ لے

                   واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی جامع مسجدحضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

الجواب صحیح فقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی ارشدی اترولوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے