زندہ اور مردہ کے غسل میں کیا فرق ہے؟؟؟


             اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ زندہ اور مردہ کے غسل میں کیا فرق ہےجواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت کریں

ساٸل۔محمد قمرالدین قادری بمقام گیناپور ضلع بہراٸچ شریف یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
                 الجواب بعون الملک الوہاب 
زندہ اور مردے کے غسل میں کچھ فرق ہے وہ یہ کہ زندہ کو کلی کرنا فرض ہے مردے کو نہیں اور دوسرا یہ کہ زندے کو ناک میں پانی چھڑھانا فرض ہے اور مردے کو منع ہے اور زندے کو یہ حکم ہے کہ غسل کا پانی اگر اسکے پیروں کے پاس جمع ہوتا ہے تو وضو کرتے وقت پاؤں نہ دھوئے مردے کے لئے حکم نہیں ہے ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ زندہ انسان جب غسل میں وضو کرے گا تو سر کا مسح بھی کرے گا اور مردے کے لئے یہ حکم نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ مردے کو بھی سر کا مسح کرایا جائے یہ زندے اور مردے کے غسل میں فرق ہے(عامہ کتب فقہ وفتاویٰ) 

                  واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی جامع مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

الجواب صحیح فقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی ارشدی اترولوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے