مسجد کے صحن میں دکانیں بنوانا کیسا ؟



(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد لبِ روڈ واقع ہے، مسجد کو ٹچ کرکے چند دکانیں نکالی گئی تھیں، اب حکومت کی طرف سے روڈ کو کشادہ کرنے کا حکم آیا ہے جس کی وجہ سے وہ دکانیں توڑی جائیں گی، مسجد کے اخراجات کے لیے فی الحال کوئی اور مستقل ذریعۂ آمدنی موجود نہیں ہے۔ دکانوں کے پیچھے مسجد کی صحن ہے جو مسجد سے متصل ہے عام دنوں میں اس صحن میں نماز نہیں ہوتی البتہ جمعہ کے دن وہاں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے نماز ادا کی جاتی ہے تو کیا شرعی اعتبار سے مسجد کے اس صحن میں دکانیں بنانا جائز ہے یا نہیں؟

(جواب) جائز نہیں۔ فتاوی رضویہ (٤٩٧/١٦) میں ہے جو زمین مسجد ہوچکی اس کے کسی حصہ کسی جز کاغیر مسجد کردینا اور اگرچہ متعلقات مسجد ہی سے کوئی چیز ہو حرام قطعی ہے قال الله تعالی  وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ (الله تعالی نے فرمایا بیشک مسجدیں الله تعالٰی کی ہیں۔) پہلے جو ایک حصہ فرش کا زینہ میں شامل کرنا چاہا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام فرش گرگیا اب فرش مسجد کو دکانیں کرنا چاہتے ہیں یہ حرام اور سخت حرام ہے ان دکانوں میں بیٹھنا حرام ہوگا ان سے کوئی چیز خریدنے کے لئے جانا حرام ہوگا فنائے مسجد میں دکانیں کرنے کو تو علماء نے منع فرمایا نہ کہ معاذ الله نفس مسجد میں بزازیہ اور درمختار میں ہے لا یجوز أن یتخذ شیئ منه مستغلا. (مسجد کے کسی حصہ کو کرایہ حاصل کرنے کےلئے مقرر کرنا جائز نہیں) مبسوط السرخسی اور عالمگیریہ میں ہے: قیم یرید أن یبني حوانیت فی فناء المسجد لا یجوز ذلك لأنه یسقط حرمة المسجد لأنه فناء المسجد له حکم المسجد (کوئی متولی فنائے مسجد میں دکانیں بنانا چاہتا ہے تو اسے ایسا کرنا جائز نہیں اس لئے کہ یہ حرمت مسجد کو ساقط کردیتا ہے کیونکہ فنائے مسجد کا حکم وہی ہے جو خود مسجد کا ہے) اھـ لہذا صحن میں دکانیں بنائے مگر مسجد کے اخراجات اور ضروریات پوری کرنا اہلِ محلہ پر لازم ہے اور یہ کام چندہ اعانت صدقات اور مسجد سے الگ غیر مسجد زمین یا جائیداد کو وقف کرکے اس کی آمدنی مسجد پر صرف کرنے سے پورا کیا جائے گا والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ