غیر مسلم کی میت میں شریک ہونا از روئے شرع کیســـاھے


               اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 

 ،کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ غیر مسلم کی میت میں اسکے پیچھے پیچھے مرگھٹ تک جانا اورانکے کام میں شریک ہونا کیساہے اور انکی تعزیت میں جانا کیسا ہے براے مہربانی جواب عنایت فرمایں

               الســــاٸل محمد غفران مصباحی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ

                  الجواب بعون الملک الوھاب

ہندو کی ارتھی کے پیچھے کسی مسلمان کا چلنا ، اور ان کے کام میں شریک ہونا ، ان کی تعزیت میں جانا وغیرہ وغیرہ یہ سب حرام ہے،جبکہ حرام جان کر کیا ہو. ایسی صورت میں اعلانیہ توبہ لازم ہے شریک ہونے والے جملہ مسلمان توبہ واستغفار کریں، اور اگر یہ اعتقاد ہو کہ ان کی ارتھی اور تعزیت وغیرہ جانا چاہئے یہ لوگ لائق تعظیم ہیں یا جاباعث ثواب ہے تو یہ کفر ہے ایسی صورت میں توبہ تجدید ایمان ،لازم ہے اور جو شادی شدہ ہوں وہ تجدید نکاح ،بھی کریں جیساکہ سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ کفار کے جنازے کے ساتھ اگر اس اعتقاد سے جائے کہ اس کا جنازہ شرکت کے لائق ہے، تو کافر ہوجائے گا اور اگر یہ نہیں تو حرام ہے،
حدیث پاک میں ہے اگر کافر کا جنازہ آئے تو ہٹ کر چلنا چاہیے کہ کہ شیطان آگے آگے آگ کا شعلہ ہاتھ میں لیکر اچھلتا کودتا اور خوش ہوتا ہوا چلتا ہے(الملفوظ جلد 4 صفحہ 460 مکتبہ المدینہ)

                     واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

فقیر محمد اختر رضا نوری بہادر گنج ضلع کشـــــن گنج بہار

الجواب صحیح المجیب نجیح فقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی ارشدی

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے