کیا روزہ کی قضا اسی ماہ میں ضروری ہے


           السلام علیکم و رحمۃ الله وبرکاتہ

سوال۔۔ علماء کرام رہنمائی فرمائیں کیا روزہ کی قضا کا اسی موسم میں کی جاے گی جس موسم میں چھوڑا ہے
یعنی اگر کوئی گرمی کے ایام میں روزہ چھوڑا ہے تو کیا گرمی میں ہی اسکی قضا کرے یا کسی بھی موسم میں اس کا جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ 

                   محمد رضوان رضوی
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
           وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

صورت مسؤلہ میں روزے کی قضا جب چاہے جب کرے اس کو اختیار ہےقرآن شریف میں ہےرب قدیر فرماتا ہے فعدة من ایام اخر علماء فرماتے ہیں اس آیت کریمہ میں قضاء روزے سے متعلق مطلق مذکور ہیں یعنی جب چاہے جب قضا کرےجیسا کہ صاحب مختصرالقدوری لکھتے ہیں قضا۶رمضان ان شا۶ فرقہ وان شا۶ تتابعہ وان آخرہ حتی دخل رمضان آخرصام رمضان الثانی وقضے الاول بعدہ کتاب الصوم صفحہ 47خلاصہ رمضان کی قضاء روزے میں اختیار ہے کہ الگ الگ کرکے رکھے یا پےدرپےکرے اور اگردوسرا رمضان آگیا اور پہلے رمضان کے روزے کی قضا نہیں کیا ہے تو ادا کو قضا پر مقدم کرے یعنی پہلے سامنے والا رمضان کا روزہ رکھے پھر گزشتہ رمضان کی قضا کرے اس لئے کہ قضاکی ادائیگی کا حکم فوری نہیں بلکہ تراخی کےساتھ ہےاس عبارت کے آخری جملوں سے یہ ظاہر ہے کہ چاہے گرمی کی قضا ٹھنڈی میں کرے یا ٹھنڈی کی گرمی میں کرے

عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے