3.30.2020

لاش کتنے دنوں تک روکی جا سکتی ہے؟؟؟


             السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان شرع اس مسئلہ میں کہ کسی کا انتقال ہونے بعد کتنی دیر تک میت کو رکھ سکتے ہیں۔حضرات علماء کرام۔ میت کی اولاد سودی میں ہے۔ آج رات 12:15 بجے انتقال ہوگیا ہے۔ وہ سودی سے ہند میں اپنے شہر پہونچنے کے لیے جمعرات کا دن ہوتا ہے۔ میت کو 36 گھنٹے سے زیادہ رکھنا ہے انکے لیے انتظار کرنا ہے توشریعت کے مطابق مسئلہ بتاءیں شکریہ

               ســــاٸلہ طوبہ فاطمہ بنارس 
====================================
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

                 الجواب بعون المک الوہاب

صورت مسئولہ میں جواب یہ ہے کہ جب کسی کی موت کا یقین ہوجائے تواس کی تجہیز وتکفن اور تدفین میں جلدی کرنا مسنون ہے، شرعی عذر یا قانونی مجبوری کے بغیر تاخیر کرنا خواہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو مکروہ ہے، اس سے میت کی بے حرمتی ہوتی ہے ،اور اگر لاش پھول جائے یا پھٹ جائے تو نماز جنازہ کے قابل نہیں رہتی، نیز میت کا چہرہ دیکھنا فرض وواجب تو ہے نہیں، جس کے لیے تدفین میں تاخیر کی جائے، رہا طبعی تقاضا تو اس کے مقابل سنت پر عمل کرنا بہتر ہے، اور سنت یہ ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو تدفین کردی جائے۔میت کو غسل دینے اور تکفین وتدفین کے انتظام کے بعد نمازِ جنازہ میں تاخیر سے حدیث شریف میں منع کیا گیا ہے، نیز نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو جلد دفن کرنے کا حکم بھی حدیث مبارک میں وارد ہے، لہٰذا نمازِ جنازہ کے بعد صرف چہرہ دکھانے کے لیے تدفین میں تاخیر کرنا مکروہ اور خلافِ سنت ہے۔علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :(قوله: ويسرع في جهازه)؛ لما رواه أبو داود «عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف، قال: ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه، وعجلوا به؛ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله». والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة؛ فإنه يحتمل الإغماء". (2/ 193)ترجمہ: " میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کی جائے ، اس حدیث کی بنا پر جوا بو داوٗد نے روایت کی ہے کہ جب آں حضورﷺ طلحہ بن براء رضی اﷲ عنہ کی عیادت کر کے واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ ان میں موت سرایت کر چکی ہے ، جب ان کا انتقال ہوجائے تو مجھے خبر کر نا؛ تاکہ میں ان کی نماز پڑھاؤں اور ان کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرو ، اس لیے کہ مسلمان کی لاش کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس کو اس کے گھر والوں کے درمیان روکا جائے"۔ اور میت پر موت کا اثر ظاہر ہوتے ہی فوراً تدفین اس لیے واجب نہیں کی گئی کہ کہیں یہ بے ہوشی نہ ہو، یعنی جب موت کا اطمینان ہوجائے تو پھر تدفین میں جلدی لازم ہوگی۔ (شامی ) (نوٹ) تو اس حدیث پاک میں سے پتہ چلا کہ میت کو زیادہ دیر نہیں روکنا چاہئے 

                   واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب وامام سنی جامع مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند
(٣ شعبان المعظم بروز یک شنبہ٢٩ مارچ بروز اتوار ٢٠٢٠

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only