3.28.2020

عبدالرحمن کو رحمن کہنا از روئے شرع کیســـاھے


               اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ ذیل کے بارٸے میں کہ کسی کا نام عبدالرحمٰن ہو تو اسے صرف رحمٰن کہنا کیسا ہے جواب عنایت فرمایں مہربانی ہوگی

ساٸل محمد قمرالدین قادری بمقام گیناپور ضلع بہراٸچ شریف یوپی

           وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته

                 الجواب بعون الملک الوہاب

جس کانام عبد الرحمن ہو اسے صرف رحمن کہنا حرام ہے -حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی علیہ الرحمہ فتاوی عالمگیری کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں٬  عبداﷲ و عبدالرحمن بہت اچھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبدالرحمن اوس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق اور عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گمان ہو کہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں دوسرے نام رکھے جائیں ۔ (عالمگیری وغیرہ){بہار شریعت حصہ ۱۵ عقیقہ کا بیان } (مسئلہ۳)اور ایسا ہی انوار الحدیث صفحہ ۲۵۸ پر ہے 


                 واللہ اعلم باالصواب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ محمـــد معصـوم رضا نوری عفی عنہ
منگلور کرناٹک انڈیا
٣٠ رجب المرجب ١٤٤١؁ھ_+918052167976

اسلامی معلومات گروپ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only