اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

نماز تہجد کا بہترین طریقہ؟؟؟


            السلام علیکم و رحمتہ الله وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تہجد کی نماز کس طریقے سے پڑھنی چاہیئے اور کتنی رکعات ہیں جواب عناعت فرمائیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

                   سائل محمد عرفان رضا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

             الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

نمازِ تہجد کی کم از کم دو رکعات ہیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات ہیں۔ بعض مورخین کے نزدیک بارہ رکعات ہیں اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بعد نمازِ عشاء بسترِ خواب پر لیٹ جائیں اور سو کر رات کے کسی بھی وقت میں فجر سے پہلے پہلے اٹھ کر نمازِ تہجد پڑھ لیں، بہتر وقت نصف شب اور آخر شب ہے۔ تہجد کے لیے اٹھنے کا یقین ہو تو آپ عشاء کے وتر چھوڑ سکتے ہیں اس صورت میں وتر کو نماز تہجد کے ساتھ آخر میں پڑھیں یوں بشمول آٹھ نوافلِ تہجد کل گیارہ رکعات بن جائیں گی۔ رات کا اٹھنا یقینی نہ ہو تو وتر نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لینا چاہیے(حوالہ بہار شریعت حصہ سوم) (بحوالہ قرآن مجید سورۃ اسرائیل) (بحوالہ صحیح مسلم حدیث نمبر1121) 
                واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیزمحمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست