4.01.2020

نماز کے بعد اجتماعی دعا کرنا کیسا ہے

            السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ.. فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرنا درست ہے یا نہیں؟ مضبوط حوالے کے ساتھ جواب عطا فرمائیں 

        ..سائل محمد دانش رضوی رامپوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

              الجواب بعون الملک الوہاب 

 تمام نمازوں کے بعد دعا مانگنا مسنون ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے فاذا فرغت فانصب و الی ربک فارغبجب تو فراغت پائے تو مشقت کر اور اپنے رب کی طرف راغب ہو تفسیر جلالین شریف میں ہے فاذا فرغت من الصلاۃ فانصب اتعب فی الدعاء والی ربک فارغب تضرعتفسیر جلالین شریف صفحہ 596)جب تو نماز سے فارغ ہو تو دعا میں تعب اور مشقت کر اور اپنے رب کے سامنے تضرع و زاری بجا لااور حدیث شریف میں ہے قلنا یارسول اللہ ای الدعاء اسمع، قال جوف اللیل و دبر الصلاۃ المکتوبات(ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 363)ہم نے عرض کیا، یارسول اللہ صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے فرمایا رات کے نصف آخیر میں اور فرض نمازوں کے بعد(بحوالہ فتاویٰ بحر العلوم جلد صفحہ 480)فرض نماز کے بعد احادیث میں مختصر دعائیں وارد ہیںمشکاۃ شریف باب الذکر بعد الصلاۃ میں ہے کان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم اذا انصرف عن صلوۃ استغفر ثلثا و قال اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الاکرام(مشکات شریف صفحہ 88 )دوسری حدیث میں ہےکان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم اذا سلم من صلواتہ یقول بصوتہ الاعلی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد و ھو علی کل شئ قدیر، لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم، اللھم لا مانع لما اعطیت و لا معطی لما منعت و لا یمنع ذا الجد منک الجدحضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کان یقول فی دبر کل صلوۃ مکتوبۃ لا الہ الا اللہ وحدہ الی آخرہرسول اللہ صلی اللہ تعالی عیلہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد لا الہ الا اللہ وحدہ الی آخرہ کہتےالغرض اسی قسم کی اور بہت سی دعائیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم سے مروی ہیں،شاید غیر مقلدوں کو اب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی سنت بھی پسند نہیں،علمائے احناف کا یہی مسلک ہے کہ جن فرض نمازوں کے بعد سنن ہیں دعائیں مختصر مانگی جائیں!، طویل دعائیں بھی ہیں وہ سنت کے بعد یا جس فرض کے بعد سنت نہیں وہاں فرض کے بعد(بحوالہ فتاویٰ بحرالعلوم جلد 1 صفحہ482 )اور بہار شریعت میں ہےنماز کے بعد جو اذکار طویلہ احادیث میں وارد ہیں وہ ظہر و مغرب و عشاء میں سنتوں کے بعد پڑھے جائیں!، قبل سنت مختصر دعا پر قناعت چاہیئے ورنہ سنتوں کا ثواب کم ہوجائے گابحوالہ بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 صفحہ 539 نماز کے بعد کے ذکر و دعا کا بیان( مکتبہ دعوت اسلامی )

                    و اللہ اعلم بالصواب 

محمد ریحان رضا رضوی فرحا باڑی ٹیڑھا گاچھ وایہ بہادر گنج ضلع کشن گنج بہار انڈیا موبائل نمبر 6287118487

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only