شئیر بازار میں پیسے لگانا از روئے شرع کیسا ہے

           السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگ شیر بازار میں پیسے لگاتے ہیں یہ حلال ہے یا حرام؟برائے مہربانی جواب عنایت فرمایں عین نوازش ہوگی 

               عبدالغنی رضوی مہاراشٹر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

               الجواب بعون الملک الوہاب

شیربازار کاکاروبارکرناجائزنہیں ہےکہ اس میں اپنے روپےکاحصہ دوسرےکےہاتھ بیچااورخریداجاتاہےاوریہ دونوں باتیں حرام ہیں جیساکہ سرکاراعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ربہ القوی فرماتے ہیں اپنے روپےکاحصہ دوسرےکےہاتھ خریدنااوربیچنادونوں حرام ہیں (فتاوی رضویہ شریف جلد ہشتم صفحہ 371 کتاب الشرکۃ قدیم)(بحوالہ فتاوی مرکزتربیت افتاجلددوم صفحہ 239)مزید تفصیل کیلئے اورمکمل تشفی کیلئےمحقق مسائل جدیدہ کی کتاب شیربازارکےمسائل کامطالعہ فرمائے

                   واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

             کتبہ محمدافسررضاسعدی عفی عنہ 
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0