4.05.2020

غوث پاک کے نام سے چلا بنانا کیسا ہے

            السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال براۓ علماء کرام تمام علمائے کرام کی بارگاہ سوال یہ ہے کے کیا غوث پا ک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چلا بنانا جائز ہے قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

            سائل محمد افروز عالم حیدرآباد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

      الــــجـــواب بـــــعـــون الــمــلــک الــــوھـــاب

صورت مسئولہ میں عرض ہے کہ حضور سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار ، بناؤٹی مزار بنانا اور اس پر چراغاں ، پھول چادر چڑھانا ، وغیرہ کرنا جو اصلی مزار کے ساتھ کیا جاتا ہے جہالت و بدعت ناجائز گناہ ہےجیسا کہ " (فتاویٰ رضویہ شریف جلد چہارم صفحہ ١١٥ مطبوعہ قدیم)میں ہے کہ فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل کا سا معاملہ کرنا ، ناجائز و بدعت ہےاور آگے دوسرے سؤال کے جواب میں ہے کہ قبر بلا مقبور ( بلا قبر کی قبر ) کی زیارت کی طرف بلانا اور اس کے لئے وہ افعال( جو اصلی مزار کے ساتھ کیا جاتا ہے ) کرانا گناہ ہےاور اگر چلہ سے مراد اس جگہ حضور سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر وہاں پرتشریف رکھے تھے تو یہ باطل ہےکیونکہ ...!!! حضور سیدی سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہندوستان میں تشریف لانا کسی بھی کتاب سے ثابت ہی نہیں - تو چلہ کیونکر ....چلہ کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی بزرگ ولی اللہ وہاں خدا کی عبادت کی تھی تو اس کی اجازت ہے کہ وہاں پر جاکر خدا کی عبادت کرےکیونکہ وہ جگہ متبرک ہوگئی ہےان کی نسبت سے اللہ تعالیٰ عبادت اور دعا قبول فرمائے گامگر وہاں مزار بنانا جائز نہیں مفسر قرآن ، محدث اہل سنت، برق رضویت بر گر دن وہابیت ، حکیم الامت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد یار خاں نعیمی علیہ جاءالحق (حصہ اول صفحہ ٢٩٢") پر تحریر فرماتے ہیں کہ بعض جہلاء کسی درخت یا کسی جگہ کی یہ سمجھ کر زیارت کرتے ہیں اور وہاں چراغاں کرتے ہیں کہ وہاں فلاں بزرگ کا چلہ ہے یعنی وہاں وہ آیا کرتے ہیں یہ محض باطل ہےہاں ....!!! اگرکسی جگہ کوئی بزرگ کبھی بیٹھے ہوں، یاوہاں انھوں نے عبادت کی ہو، تو وہاں یہ سمجھ کر عبادت کرنا کہ یہ متبرکہ جگہ ہے جائز ہےبلکہ سنت ہےبخاری شریف جلد اول کتاب الصلوٰۃ بحث المسجدمیں ایک باب مقرر کیاباب المسجد التی علی طریق المدینۃاس میں بیان فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما راستہ میں ہر اس جگہ نماز ادا کرتے تھے جہاں حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے کبھی نماز پڑھی تھی ، حتی کہ بعض جگہ مسجدیں بنا دی گئی تھیں ، مگر وہ غلطی سے کچھ علیحدہ بن گئیں تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس مسجد میں نماز نہ پڑھتے تھے ، بلکہ وہاں ہی پڑھتے تھے جہاں حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے نماز پڑھی تھی فلم یکن عبداللہ ابن عمر یصلی فی ذلک المسجد کان یترکہ عن یسار یہ کیا تھا .....؟ محض برکت حاصل کرنا ....!!! آج بھی بعض حاجی غار حرا میں جہاں محبوب باری تعالیٰ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے چھ ماہ عبادت فرمائی ، نمازیں پڑھتے ہیں لہذا .....!!!! خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر بزرگان دین رحمہم اللہ کی عبادت گاہوں میں نمازیں ادا کرنی ، ان کو متبرک سمجھنا سنت صحابہ سے ثابت ہےمگر افسوس ہے....!!! ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جہاں پر کسی بزرگ کی آمد ہوئی بھی ہوئی ہو تو عبادت کرنی چاہئے نہ کہ وہاں بناؤٹی قبر بنا کر وہاں دھوم دھڑاکہ اور غیر شرعی احکام کریں اور خود گناہوں میں مبتلا رہیں اور دوسروں کو بھی اس میں شامل کریں صرف دنیا کمانے اور ذرائع آمدنی کے لئے خوب خوب شریعت اسلامی کے ساتھ کھلواڑ کریں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کو شیطانی ہتھکنڈوں سے بچائے تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں - آمین 

             (واللّٰہ و رسولہ اعلم بالصواب)

        کتبہ جعفر علی صدیقی سانگلی مہاراشٹر 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only