کیا مسجدوں کو رنگوانا اور اس کو اراستہ کرنا جائز ہے


            اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 

 ایک سوال عرض ہیکہ کیا مسجدوں کو رنگوانا اور اس کو اراستہ کرنا جائز ہے حدیث وقران کی روشنی میں مدلل جواب ارسال فرمائیں

             سائل  امجدمحمد رضا الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

                الجواب بعون الملک الوہاب

مسجدکوچوناوغیرہ سےرنگواسکتےہیں کوئی حرج نہیں بلکہ بہترہے ہاں ناپاک اشیاءکی آمیزش نہ ہوجیساکہ سرکارصدرالشریعہ الرحمہ فرماتے ہیں مسجد کو چونے اور گچ سے منقش کرنا جائز ہے، سونے چاندی کے پانی سے نقش و نگار کرنا بھی جائز ہے جبکہ کوئی شخص اپنے مال سے ایسا کرے مال وقف سے ایسا نہیں کرسکتا، بلکہ متولی مسجد نے اگر مال وقف سے سونے چاندی کا نقش کرایا تو اسے تاوان دینا ہوگا، ہاں اگر بانی مسجد نے نقش کرایا تھا جو خراب ہوگیا تو متولی مسجد مال مسجد سے بھی نقش و نگار کراسکتا ہے۔ بعض مشایخ دیوار قبلہ میں نقش و نگار کرنے کو مکروہ بتاتے ہیں کہ نمازی کا دل اُدھر متوجہ ہوگامسجد کی دیواروں میں گچ اور پلاستر کرانا جائز ہے کہ اس کی وجہ سے عمارت محفوظ رہے گی۔ مسجد میں پلاستر کرانے یا قلعی یا کہگل کرانے میں ناپاک پانی استعمال نہ کیا جائے۔ (بہار شریعت حصہ شانزدہم آداب مسجدوقبلہ کابیان(فتاوی علیمیہ جلد دوم صفحہ 475) 

                   (واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب) 

             کتبہ محمدافسررضاسعدی عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے