4.12.2020

شئیر بازار میں پیسے لگانا از روئے شرع کیسا ہے


                السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ. 

 مفتیان کرام سے سوال ہے کہ لوگ شیئر بازار میں پیسے لگاتے ہیں یہ حلال ہے یا حرام ؟

         سائل : عبد الغنی رضوی مہاراشٹر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
   وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب : 

شیئر بازار میں پیسے لگانا حرام ہے - جیساکہ سراج الفقہاء محقق مسائل جدیدہ حضور مفتی نظام الدین صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ والقدسیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " سرمایہ کمپنی میں مساواتی حصص کے ذریعہ شمولیت شرکت عقد کی ایک خاص قسم "شرکت عنان" ہے اور ان سے تجارت جائز ودرست ہے لیکن ان حصص کا حصول چونکہ ایک ناجائز کام (سود) میں تعاون یا کم از کم رضا کا ذریعہ ہے اس لئے ان کا حصول اور انکی خرید و فروخت ناجائز و گناہ ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ کمپنی کے کاروبار میں شرکت سے مکمل اجتناب کریں اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ فوراً اپنے حصص کسی غیر مسلم سے بیچ کر کنارہ کش ہوجائین ساتھ ہی توبہ بھی کریں یوں ہی جو لوگ پہلے کبھی ملوث رہے وہ بھی توبہ کریں " اھ( شیئر بازار کے مسائل ص:280/ مکتبہ برہان ملت) مزید تحقیق و تفصیل کے لئے اسی کتاب کا مطالعہ فرمائیں 

                    - واللہ تعالیٰ اعلم -

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only