اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

جو یہ کہے نہ مسلمان ہوں نہ کافِر تو اسکے لئے کیا حکم ہے

             السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زَید سے پوچھا گیا تُو مسلمان ہے یا کافِر ؟ جواب دیا مجھے نہیں معلوم کہ مسلمان ہوں یا کافِر ؟

            سائل محمد عاطف رضا رضوی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

       الـــــــــــــــجواب بعون الملکـــــ الوھاب 

 اسی طرح سے کے مسئلے میں حضور صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں جس شخص کو اپنے ایمان میں شک ہو یعنی کہتا ہے کہ مجھے اپنے مومِن ہونے کا یقین نہیں یاکہتاہے معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافِر ۔ وہ کافر ہے ۔ ہاں اگر اُس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں میرا خاتِمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں تو کافِر نہیں ۔ جو شخص ایمان و کُفرکو ایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے خدا کو سب پسند ہے وہ کافِر ہے ۔ یوہیں جو شخص ایمان پر راضی نہیں یا کُفر پر راضی ہے وہ بھی کافِر ہے ۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۹ص ۱۷۹، عالمگیر ی ج۲ ص۲۵۷ ) نیزفُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں : جس نے اپنے ایمان میں شک کیا اور کہا : ’’ میں مومن ہوں اِن شاء اللّٰہ ‘‘ اگر اپنے ایمان میں شک کی وجہ سے اس طرح کہا تو کفر ہے اور اگر اس وجہ سے کہا کہ معلوم نہیں میرا خاتمہ ایمان پر ہو گا یا کفر پر تو کفر نہیں ۔ (عالمگیری جلد ۲ صفحہ نمبر ۲۵۷)

               واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست