4.15.2020

جو یہ کہے نہ مسلمان ہوں نہ کافِر تو اسکے لئے کیا حکم ہے

             السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زَید سے پوچھا گیا تُو مسلمان ہے یا کافِر ؟ جواب دیا مجھے نہیں معلوم کہ مسلمان ہوں یا کافِر ؟

            سائل محمد عاطف رضا رضوی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

       الـــــــــــــــجواب بعون الملکـــــ الوھاب 

 اسی طرح سے کے مسئلے میں حضور صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں جس شخص کو اپنے ایمان میں شک ہو یعنی کہتا ہے کہ مجھے اپنے مومِن ہونے کا یقین نہیں یاکہتاہے معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافِر ۔ وہ کافر ہے ۔ ہاں اگر اُس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں میرا خاتِمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں تو کافِر نہیں ۔ جو شخص ایمان و کُفرکو ایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے خدا کو سب پسند ہے وہ کافِر ہے ۔ یوہیں جو شخص ایمان پر راضی نہیں یا کُفر پر راضی ہے وہ بھی کافِر ہے ۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۹ص ۱۷۹، عالمگیر ی ج۲ ص۲۵۷ ) نیزفُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں : جس نے اپنے ایمان میں شک کیا اور کہا : ’’ میں مومن ہوں اِن شاء اللّٰہ ‘‘ اگر اپنے ایمان میں شک کی وجہ سے اس طرح کہا تو کفر ہے اور اگر اس وجہ سے کہا کہ معلوم نہیں میرا خاتمہ ایمان پر ہو گا یا کفر پر تو کفر نہیں ۔ (عالمگیری جلد ۲ صفحہ نمبر ۲۵۷)

               واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only