کیا اٹھارہ تولہ سونا پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے؟؟؟

     
      

             السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص کے پاس 18تولہ سونا ہے تو کیا اس پرزکوۃ واجب ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کتنی نکالنی پڑے گی مع حوالہ بالتفصیل جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں فقط والسلام

                سائل محمد لامان رضا
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::             وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

               الجواب بعون الملک الوھاب

اگرکسی کےپاسساڑھےسات تولہ سونایااس سےزیادہ ہویاساڑھےباون تولہ چاندی یااس سےزیادہ ہویاتھوڑاتھوڑادونوں ہوں جسےملاکرکےکسی ایک کی قیمت پہونچ رہی ہویاتجارت کےمال وغیرہ ہوں جومالک نصاب ہونےتک اسے پہونچ رہےہیں اس کی قیمت اتنی ہورہی ہےتوزکوٰۃ اس پرواجب ہےلہذا صورت مسؤلہ میں اگراٹھارہ تولہ سوناہےاوراس پراتناقرض نہیں ہےکہ نصاب باقی نہ رہےتوبلاشبہ اس پرزکوٰۃ واجب ہےسرکارصدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتےہیںکہ جس کےپاس سونےکی نصاب بیس مثقال ہےیعنی ساڑھےسات تولہ اور چاندی کی دوسودرم یعنی ساڑھےباون تولہ اگر ان میں کوئی ایک چیزبھی ہے توزکوٰۃ واجب ہے یاپھراتناروپیہ ہوتوزکوٰۃ واجب ہےاورآگے فرماتےہیں سونا چاندی جب کہ بقدر نصاب ہوں تو ان کی زکاۃ چالیسواں حصہ ہے، خواہ وہ ویسے ہی ہوں یا اُن کے سکّے جیسے روپے اشرفیاں یا ان کی کوئی چیز بنی ہوئیبہارشریعت جلداول حصہ پنچم زکوٰۃ کابیانمعلوم ہواکہ چالیسواں حصہ نکالاجائے گاتوہم کوچاہئے کہ اپنے مال سےچالیسواں حصہ نکال کرفقراء مساکین کودے 

               واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

       کتبہ محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے