امام باڑا میں فاتحہ دلانا کیسا ہے؟؟؟


            السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ دیل کے بارے میںامام باڑا میں فاتحہ دلانہ کیسا ہے برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

            سائل:۔ غلام صمدانی رضا اوڈیشہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

              الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

صورت مسؤلہ میں جواب یہ ہے کہ مصنوعی کربلا امام باڑہ اور فرضی روضہ بناکر اسے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ حضرت امام کے روضہ مبارکہ کی طرح برتاٶ کرنا یہ سب حرام وگناہ ہےصاحب عقل بخوبی یہ جانتا ہے کہ فرضی روضہ ہرگز ہرگز حضرت امام کا روضہ نہیں نہ ہی وہ کربلا نہ ہی امام کی بارگاہ نہ ہی امام کی آرام گاہ ہے پھر اس کے ساتھ اصل روضہ امام سابرتاٶ کرنا کیونکر جاٸز ہوسکتا ہے اسلام فرضی ومصنوعی چیز کو حقیقی اور سچی ماننے کی تعلیم نہیں دیتی عوام کا یہ طریقہ بلکل غلط ہے اور اسے حضرت امام کا روضہ سمجھ کر وہاں فاتحہ پڑھنے والے اور اس طرح کے دوسرے امور انجام دینے والے سبھی گنہگار ہیں لیکن جب جاہلوں کے دلوں میں اس فرضی کربلا اور فرضی روضہ کی عظمت پہلے ہی سے رچی بسی ہوٸی ہے تو اسے نرمی کے ساتھ سمجھایاجاے نہ اسے ابتدا ہی اسے توڑ دینے کا اعلان کردے اور جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ‌ ۞ ترجمہ:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سےسورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 125(فتاوی مرکز تربیت افتإ جلد 2صفحہ نمبر 373) 

               واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے