خطبہ علیمی یعنی خطبہ جمعہ کی کتابت میں کچھ لفظی غلطیاں؟؟؟


           السلام عليكم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

ميرا ایک سوال ہے کہ جمعہ وعیدین کے خطبہ کی ایک کتاب ہے جس کا نام خطبہ علمی ہے اس میں ایک عبارت ہے( بايعوه تحت الشجرة )کتاب میں الشجرة پر فتحہ دیا ہوا ہے( یعنی زبر) تو کتاب میں کیا صحیح لکها ہوا ہے؟ مجهے لگتا ہے کہ اس پر کسرہ ہونا چاہئے اور آپ اس کی ترکیب کر دینا بهاٸی اور آپ بهی کتاب کو پڑھ لینا  اور یہ عبارت رمضان المبارک کے خطبہ میں ہے براے کرم سوال کا جواب جلد عنایت فرمائیں

       
    آپ کا طالب خاص محمد ابن الحسن رضوی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

                الجواب بعون الملک الوہاب 

جی بھاٸی صاحب! آپ نے صحیح سمجھا ہے۔وہاں” تحت الشجرہ “میں" الشجرہ "کی تا پہ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے کسرہ یعنی زیر ہی ہے ۔اصل عبارت یوں ہے ”وعلی الذین بایعوہ تَحتَ الشَّجَرَہِ“ یعنی ان لوگوں پر (سلام و رحمت ہو ) جھنوں نے پیڑ کے نیچے آپ [ﷺ] سے بیعت کی ۔ترکیب یوں ہوگی :” و “ براے عطف ”علی“ حرف جر” الذین“ اسم موصول” بایعو“ فعل ماضی ، صیغہ جمع مذکر غاٸب اس میں واو ضمیر بارز اس کا فاعل ”ہ“ ضمیر منصوب متصل مفعول بہ ”تحت“ مضاف ”الشجرہ “مضاف الیہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعو ل فیہ اب فعل اپنے فاعل ،مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر”الذین “اسم موصول کا صلہ اسم موصول اپنے صلہ سے مل کر علی حرف جر کا مجرور جا ر اپنے مجرور سےمل کر متعلق ہواماقبل میں مذکور لفظ ”السلام“ کے۔نوٹ: الشجرہ میں” ہ“ ”تا مدورہ “ہے لیکن ہمارے کیبورڈ میں آ نہیں رہی ۔جس کتاب میں ”الشجرہ “ کی تا پہ زبر ہے اس میں کتا بت کی غلطی ہے

             واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

          العبد محمد کلیم نوری بارہ بنکوی

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ