ڈیلیوری والی عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟؟؟


            السلام عیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس عورت کے ڈیلیوری ہو کیا وہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں ہیں ۔۔۔حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائے۔۔۔۔۔

                سائل محمد ذیشان حیدر۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

           الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

بچے کی پیدائش کے بعد چند روز جو خون جاری ہوتا ہے اسے نفاس کہتے ہیں اس کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ مدت چالیس دن ہے خواہ بچہ پیدا ہوتے ہی مر جائے یا زندہ رہے یعنی اگر بچے کی پیدائش کے چالیس دن بعد بھی خون جاری ہے تو یہ نفاس کا خون نہیں ہے بلکہ یہ نسواں بیماری ہے لہذا ایسی صورت میں چالیسواں دن پورا ہونے کے بعد غسل کر کے پاک ہو جانا چاہئے اور روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرے خون بہنے میں وقفہ نہ بھی ہو تو نماز و روزہ ادا ہو جائے گے لیکن نفاس کی کم از کم مدت کوئی مقرر نہیں ہے یہ مختلف اشخاص کی جسمانی صلاحیت عادت مزاج اور صحت پر موقوف ہے لہذا جب خون جو بچے کی پیدائش کے بعد جاری ہوتا ہے بند ہو جائے خواہ پانچ دن بعد دس دن بعد یا بیس دن بعد ہو اسی وقت سے نفاس کی مدت ختم ہو جائے گی اور ایسی خاتون کو غسل کرنے پاک ہو کر جانا چاہیے اور نماز روزے کا سلسلہ شروع کر دینا چاہئے چالیس دن کی مدت پوری کرنا ضروری نہیں اسی طرح پاک ہونے کے بعد اس سے شوہر کی قرابت بھی جائز ہے(حوالہ تفہیم مسائل صفحہ نمبر 197)یعنی خون بند ہونے کے بعد روزہ فرض ہوجاتا ہے یونہی نماز فرض ہوجا تی ہے کہذا اس کو ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے البتہ بچے کو اگر روزہ رکھنے کی صورت میں دودھ نہ ملتا ہو یا کسی قسم کا نقصان پیدا ہوتا ہو تو ایسی خاتون کو اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے بعد میں اس کی قضا کرے حدیث شریف میں ہے. ابوداٶدوترمزی ونساٸی وابن ماجہ انس بن مالک کعبی رحمةاللہ علیہ سے روایت ہےکہ نبی کریمﷺنےفرمایا،، اللہ تعالی نے مسافر سے آدھی نماز معاف فرمادی اور مسافر اور دودھ پلانے والی اورحاملہ سے روزہ معاف فرمادیا (کہ ان کو اجازت ہے اس وقت نہ رکھیں بعد میں وہ مقدار پوری کرلیں)(جامع ترمزی ابواب الصوم)اور حضور صدر الشریعہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ اس حدیث کی روشنی میں تحریر فرماتےسفر(مسافر)وحمل (جس کےپیٹ میں بچہ ہو)اوربچےکودودھ پلانااورمرض و بڑھاپااورخوف ہلاک واکراہ ونقصان عمل اورجہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر ہیں ان وجہوں سے اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو گناہگار نہیں خلاصہ دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے بعد میں ان چھوٹےہوۓروزوں کی قضاء کرلے (درمختارکتاب الصوم)بہار شریعت حصہ پنجم 1003) 

               واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے