حجام کی کمائی حلال ہے یا حرام ؟؟؟؟

             السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

امید ہے تمام علماء اکرام خیرو عافیت کے ساتھ ہوں گے اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے دونوں جہان کی بھلائیاں نصیب فرمائےآمین ثم آمینبعد سلام کیا عرض خدمت یہ ہے کہناںیٔ جو هے بال بھی بناتا هے اور لوکوں کی داڑھی شیوینگ بھی کرتا هے تو اس کے یه کماںیٔ حلال هے ؟یا حرام؟ اس کے یهاں دعوت میں جا سکتے ھیں یا نهیں 
براۓ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماںٔیں اور شکریه کا موقع دیں

              الساںٔل محمد مقیم رضویبهار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته

              الجواب بعون الملک الوھاب

 مسلمان نائی کے لئے داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا حرام ہے وجہ یہ ہے کہ داڑھی مونڈنا اور مونڈانا حرام ہے اور حرام و ناجائز کام پر اجرت لینا بھی حرام و ناجائز ہے ۔ درمختار ، باب الاجارة الفاسدة میں ہے کہ " و لا تصح الاجارة لاجل المعاصى مثل الغناء و النوح و الملاهى " اھ ( ج ٦ ص ۵۵ ) اور البحر الرائق میں ہے کہ " و ان اعطاها الأجر و قبضه لا يحل له و يجب عليه رده على صاحبه "اھ ( ج ۸ ص ۲۰ )یہ شخص اگر عین اسی مال حرام سے کھلائے تو نہ کھائیں لیکن جب اس کا مال حلال و حرام دونوں طرح کا ہے اور دونوں باہم مخلوط ہوتا ہے تو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکتا یہ خاص معلوم حرام سے ضیافت ہوا ہے علاوہ ازیں اجرت میں روپئے پیسے ملتے ہیں جو خود کھائے نہیں جاتے بلکہ ان سے کوئی چیز مطعومات و مشروبات میں سے خریدی جاتی ہے جس پر عموما عقد و نقد جمع نہیں ہوتے اس لئے اس کے یہاں کھانا مال حرام کھانا نہیں تاہم علماء فقہاء ؛ حفاظ؛ قراء؛ ائمہ کو اس کے یہاں کھانے سے احتراز کرنا چاہئے تاکہ اس سے لوگوں کو عبرت ہو (بحوالہ فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ ۵۳۱ ۵۳۲ ){مطبع فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی}

                 واللہ تعالی اعلم باالصواب

کتبــــــــــہ محمـــد معصـوم رضا نوری عفی عنہ منگلور کرناٹک انڈیا۱۱/ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ ہجری ۵/ مئی ۰۲۰۲؁ عیسوی بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے