کیا معتکف دوسری جگہ امامت کر سکتا ہے؟؟؟


            السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا معتکف مسجد سے باہر نکل کر کسی کے گھر پر پنچ وقتہ نماز جماعت سے پڑھانے جا سکتا ہے یا نہیں جواب کا طالب

 سائل محمد حسنین رضا پیلی بھیت شریف اتر پردیش
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      وعليكم السلام و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ 

              الجواب بعون الملک الوھاب

جیساکہ فقیہ اعظم ھند حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ عیلہ الرحمۃ والرضوان اپنی کتاب مشہور زمانہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ معتکف اگر ڈوبنے یا جلنے والے کے بچانے کیلئے مسجد سے باہر گیا یا گواہی دینے کیلئے گیا یا جہاد میں سب لوگوں کا بلاوا ہوا اور یہ بھی نکلا یا مریض کی عیادت یا نماز جنازہ کیلئے گیا اگرچہ کوئی دوسرا پڑھانے والا نہ ہو تو ان سب صورتوں میں اعتکاف فاسد ہو جائیگا (بہار شریعت جلد اوّل حصہ پنجم صفحہ ۱۰۲۵)(ھٰکذا فتاویٰ فیض الرسول جلد اوّل اعتکاف کا بیان ص ۵۳۴)لہٰذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ صاف طور پہ ظاہر و باہر ہوگیا کہ معتکف جس مسجد میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہرا ہے اس کو چھوڑ کر نہ کسی کی گواہی میں جاسکتا ہے اور نہ کسی مریض کی عیادت میں جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی کی نماز جنازہ پڑھانے کیلئے جاسکتا ہے اگرچہ وہاں کوئی امام موجود نہ ہو تو پھر یہ کیسے صحیح ہوگا کہ مسجد کو چھوڑ کرکے وہ کسی اور کے گھر پہ جاکر نماز پڑھائیں۔ بہر کیف کسی بھی حاجت کے تحت وہ مسجد سے باہر نہ جاسکتا ہے سوائے اس حاجت کے کہ جس کیلئے نکل نے کی اجازت شریعت مطہرہ نے دی ہے مثلاً حاجت طبعی و شرعی۔

                   واللّٰہ و رسولہ اعلم باالصواب 

محمّد مکّی رضا خان قادری نظامی مہسوتھوی سیتامڑھی بہار۔ رابطہ نمبر 9135171974

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے