ایک دن بعد اعتکاف میں بیٹھے تو کیا حکم ہے


            اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

اپ سبھی حضرات کی بارگاہ میں ایک مسلہ ھے ۔سنت موکدہ والی اعتکاف کل بیٹھنا تھا پر یاد نہیں تھااور اج بیٹھنے سے کیا سنت موکدہ والی اعتکاف ادا ھوگا یا نہیں اور ھوگا تو کیا جو ایک دن کا چھوٹا تو کیا قضا کریگا جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں 

                    سائل سجاد نوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

                الجواب بعون الملك الوھاب

عشرہ اخیرہ میں یعنی بیسویں رمضان سے تیس رمضان یا انتیس کو چاند نظر آنے کے تک مسجد میں حاضر رہنے کو اعتکاف سنت مؤکدہ کہتے ہیں اگر کوئی اکیسویں رمضان کو اعتکاف میں بیٹھاتو سنت مؤکدہ ادا نہیں ہوئی بلکہ سنت کفایہ۔جیسا کہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہسنت مؤکدہ کہ رمضان کے پورے عشرہ اخیرہ یعنی دس دن میں اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی اور یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کرلیا تو سب بری الذمہ۔بہار رمضان صفحہ نمبر/118

کتبہ محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند موبائیل فون/9454675382

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے