میت کو کس جانب لیٹانا چاہئیے؟؟؟


             السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

تمام علمائے کرام و مفتی اعظام سے میرا یہ سوال ہے کہ میت کو کس رخ کرکے لیٹانا چاہیے اور اس کا مسنون طریقہ کیا ہے

               محمد اطہر رضا حیدرآباد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

               الجواب بعون الملك الوھاب

میت کو داہنی کروٹ پر لیٹانا چاہئےجیسا کہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ میت کو داہنی کروٹ پر لٹائیں اور اس کا منہ قبلہ کو کریں اگر قبلہ کی طرف منہ کرنا بھول گئے تختہ لگانے کے بعد یاد آیا تو تختہ ہٹا کر قبلہ رو کردیں اور مٹی دینے کے بعد آیا تو یونہی اگر بائیں کروٹ پر رکھا یا جدھر سرہانا ہونا چاہئے ادھر پاؤں کرے تو اگر مٹی دینے سے پہلے یاد آیا تو ٹھیک کردیں ورنہ نہیں۔بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر/144فاروقیہ بکڈپو/422 جامع مسجد دہلی/6میت کا منہ قبلہ کو کردیں چت نہ لٹائیں کہ منع ہےجیسا حدیث شریف میں ہےعن على انه قال شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم جنازة رجل فقال يا على استقبل به استقبالا وقولواجميعا باسم الله وعلى ملة رسول الله وضعوه لجنبه ولا تكبوه لوجهه ولا تلقوه لظهره.بدائع الصنائع جلد دوم کتاب الصلاۃ باب سنن الدفن صفحہ نمبر/63حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے جنازہ میں شرکت کی تو فرمایا اے علی مردہ کو قبلہ کی جانب متوجہ کرو اور سب لوگ بسم اللہ وعلیٰ ملة رسول اللہ پڑھو اور اس کو کروٹ پر رکھو منہ کے بل اوندھہ نہ کرو اور نہ پیٹھ کے بل لٹاؤ۔بستر علالت سے قبر تک صفحہ نمبر71مؤلف مولانا تاج محمد صاحب اترولوی۔

 کتبہ محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند موبائیل فون/9454675382

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے