کیا عورت موبائل فون سے علم سیکھ سکتی ہے؟؟؟


                اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ عورت کی آواز بھی پردہ ھے۔لیکن کیا علمِ دین سیکھنے کی غرض سے کسی نامحرم سے (بذریعہ موباٸل، واٸس میسیج یا آمنے سامنے یا پردے میں رہ کر) سوال کرنا۔ کیا یہ جاٸز ھے ؟ مہربانی فرماکر مع حوالہ جواب عنایت کریں

ساٸل ایم۔ کے۔ رضا صدیقی اسمٰعیلیدارالعلوم اھلِسنّت ضیاٸے رضا، الجامعة الاسمٰعیلیہ، مسولی شریف، ضلع بارہ بنکی، یوپی، الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

               الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسؤلہ اصل مسئلہ عورت کی آواز کاہےاس کےمتعلق فقہائےکرام فرماتےہیں کہ نغمۃ العورۃ عورۃ کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے توعورت پرلازم ہےکہ اپنی آوازکابھی پردہ کرےاجنبی شخص سے دوری اختیارکریں اس کی آوازاپنے کانوں تک نہ جانےدیں ورنہ ایک فعل حرام کاارتکاب کرنےوالی ہوگی لیکن بات علم کی ہے تویہ امر بھی ضروری ہے اس لئے ایک بہت مشہور فقہ کاقاعدہ ہے کہ الضرورات تبیح المحظوراتکہ وقت ضرورت بہت سے ناجائزامورجائزہوجاتےہیںچند شرائط کےساتھ عورت اجنبی مرد سے تعلیم حاصل کرسکتی ہےاورمسئلہ مسائل کی بھی جانکاری لےسکتی ہے اس کیلئے شرط یہ ہےکہ اندیشہ فتنہ نہ ہوخلوت نہ ہوپردےکی آڑسےہوغرض کےکسی طرح کاکوئی فتنہ نہ ہوتوایسی صورت میں بلاشبہ درست ہےجیساکہ حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ فرماتےہیںکہ بےشک عورت کی آوازبھی عورت ہےمگرضرورۃ وہ اجنبی مردکی آوازسن بھی سکتی ہےاوراس اپنی آوازسنابھی سکتی ہےاورقرآن کی تعلیم ایک دینی ضرورت ہےقرآن پڑھانےوالی عورت نہ ہوتومردسےتعلیم حاصل کرسکتی ہےاسی طرح اندھےسےبھی پردہ ہےلیکن تعلیم کیلئےبےپردگی کیاضروری ہےعورت برقعہ کےاندرہواوراس کاجسم چھپاہواورایساانتظام ہوکہ استادسےکسی فتنہ کاڈرنہ ہوتوقرآن سیکھنےمیں یادینی مسائل جاننےمیں کوئی حرج نہیں فتاوی بحرالعلوم جلداول صفحہ 386حاصل کلام یہ ہے کہ اگر پردےمیں ہواورفتنےکاڈرنہ ہوتوعورت تعلیم حاصل کرسکتی ہےاورمسئلہ بھی سیکھ سکتی ہے اوررہی بات موبائل پرپوچھنےکی تواگر فحش باتوں کاڈرنہ ہواستاد بہتر ہوعورت جانتی ہوکہ یہ کوئی فحش بات نہیں کرےگےتوموبائل پربھی پوچھ سکتی ہےاگرفتنےکاڈرہوتواس کواجازت نہیں ہے

               واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

          کتبہ محمدافسررضاسعدی عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے