کیا بیٹا اپنے والدین کی قضاء نمازیں پڑھ سکتا ہے؟؟ ؟

           السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماۓ اکرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے زید کے والد کا انتقال ہوگیا اور ان کے اوپر قضاء نماز باقی ہے تو کیا زید پڑھ سکتا ہے جس میں زید گھر میں سب بچوں میں چھوٹا ہے قرآن حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرماۓ مہربانی ہوگی

        سائل محمد سعید رضا بریلی شریف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      وعليكم السلام و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ

               الجواب بعون الملک الھواب

جیساکہ صاحب قانون شریعت اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کے بدلے میں نہ تو روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ نماز پڑھ سکتا ہے البتہ اپنے روزے اور نماز وغیرہ کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے۔ (ھدایہ و عالمگیری و بہار شریعت وغیرہ)(ماخوذ از قانون شریعت جلد اوّل صفحہ ۲۱۰) لہٰذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ صاف روشن ہوگیا کہ کسی دوسرے کے بدلے کوئی دوسرا نہ تو روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ نماز پڑھ سکتا ہے البتہ وہ اپنے نماز و روزے کا ثواب چاہے تو ضرور پہنچا سکتا ہے لیکن ضروری اس کیلئے یہ ہیکہ وہ شخص اپنے مرنے والوں کی طرف سے جو نماز و روزوں کی فدیہ ہوتی ہے وہ دے دیں۔

           واللّٰہ تعالیٰ و رسولہ ﷺ اعلم بالصواب

محمّد مکّی رضا خان قادری نظامی مہسوتھوی سیتامڑھی بہار۔ رابطہ نمبر 9135171974

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے