جو بچہ مادر شکم میں ہے کیا اسکا بھی صدقہ فطر ادا کر سکتے ہیں

              السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہے کیا اس کے طرف سے صدقہ و فطرہ ادا کرسکتے ہیں یا نہیںجواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت کریں

سائل محمد قمرالدین قادری بمقام گیناپور ضلع بہرائچ شریف یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

 الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایتہ الحق والصواب

شکم مادر میں پلنے والے بچے کا فطرہ نہیں ہے، کما فی الھندیہ، جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہو، اس کی طرف سے صدقۂ فطر اداکرنا واجب نہیں ہے، فتاویٰ ھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،،، ہاں اگر شب عید بچہ پیدا ہوا تو اس کا بھی فطرہ نکالنا ہوگا اس لئے کہ روز عید صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہو جاتا ہے اگر بعد میں ہوا تو فطرہ نہیں ـ ایضا ـ و بہار شریعت وکتب فتاوی وغیرہ 

               واللہ تعالی اعلم بالصواب 

     کتبہ حقیر عجمی محمد علی قادری واحدی
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0