فطرہ کی رقم مکتب میں لگانا کیسا ہے

          السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ ذیل کے بارے میں کہ فطرا کو مکتب میں لگانا کیسا ہے بحوالا جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

                 سائل محمد تہزیب نوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

              الجواب بعون الملک الوہاب 

زکواۃ و صدقئہ واجبہ کے مصا رف ایک ہی ہیں ۔ مکتب و مد رسہ میں ڈائریکٹ لگانا جائز نہیں۔ چونکہ کہ اس کی ادائیگی کیلئے تملیک شرط ھے۔جو مدا ر س و مکاتب میں نہیں پایا جاتا البتہ حیلئہ شرعی کے بعد لگانا جائز ھوگا : جس مکتب میں ز کوةودیگرصدقات واجبہ کا مصر ف نہ ہو، اس میں زکوة، فطرہ و دیگر صدقات واجبہ دینا اور مد رسہ والوں کا وصول کرنا ہی صحیح نہیں ہے؛ حیلئہ شرعی ضرورت شرعی کے باعث ھوتا ھے اور مکتب میں اس کی ضرو رت نہیں : قد تقرر عند الفقہاء أن نص الواقف کنص الشارع وأن مراعاة غرض الواقفین واجبة کذا فی عامة کتب الفقہ والفتاوی، وقال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة (سورة التوبة: ۶۰)، ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیة من أي مال کان الخ،……ولا إلی بنی ھاشم الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۹۵-۲۹۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، یصرف المزکي إلی کلھم أو إلی بعضھم،……ویشترط أن یکون الصرف تملیکا، …،لا یصرف إلی بناء نحو مسجد (المصدر السابق،، ص:۲۹۱)، قولہ:”نحو مسجد“:کبناء القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج والجھاد وکل ما لا تملیک فیہ۔ زیلعي (رد المحتار)، ومثلہ في مجمع الأنھر (کتاب الزکاة، ۱:۳۲۷،۳۲۸، ط:دار الکتب العلمیة، بیروت)، حیث قال:ولاتدفع الزکوة لبناء مسجد؛لأن التملیک شرط فیھا ولم یوجد، وکذا بناء القناطیر وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج وکل ما لا تملیک فیہ اھ، وھنا الوکیل إنما یستفید التصرف من الموٴکل وقد أمرہ بالدفع إلی فلان فلا یملک الدفع إلی غیرہ کما لو أوصی لزید بکذا لیس للوصي الدفع إلی غیرہ (رد المحتار، کتاب الزکاة، ۳: ۱۸۹ط مکتبة زکریا دیوبند) ، وفیھا - أي فی الیتیمة - سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال لہ: ” ھذا زکاة مالي فادفعھا إلی فلان“ ، فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟ فقال: نعم، لہ التعیین (الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الزکوة،الفصل التاسع فی المسائل المتعلقة بمعطی الزکاة، ۳: ۲۲۹ط مکتبة زکریا دیوبند)۔

               واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ : محمد مقصود عالم فرحت ضیائ خلیفئہ حضورتاج الشریعہ و محدث کبیروخادم فخرازہر دار الافتاء والقضاءو سرپرست اعلیٰ جماعت رضائے مصطفی برانچ ہاسپیٹ کرناٹک الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے