کیا شوال کے روزے ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں


                السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

حضرت شوال المکرم کے مہینے میں 6 روزے رکھے جاتے ہیں کیا یہ ایک ساتھ رکھیں جاینگے یا ایک دن آگے پیچھے اور اسکی فضیلت اور اس روزہ کو رکھنے والے کو سال بھر روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا کس حدیث سے ثابت ہے رہنمائی فرمائیں فقط والسلام

                حافظ نسیم احمد اشرفی بارس 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
               وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

   الجواب بعون الملک الوہاب الھم ھدایت الحق والصواب 

مفتی امجدعلی علیہ الرحمہ اپنی کتاب بہارشریعت میں تحریرفرماتےہیں کہ مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و طبرانی ابو ایوب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو ایسا ہے جیسے دہر کا روزہ رکھااور اسی کے مثل ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ وابن حبان ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور امام احمد و طبرانی و بزار جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکھ لیے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھاکہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے دس ملیں گی تو ماہِ رمضان کا روزہ دس مہینے کے برابر ہے اور ان چھ دنوں کے بدلے میں دو مہینے تو پورے سال کے روزے ہوگئےعبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا، جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہےبہتر یہ ہے کہ یہ روزے متفرق رکھے جائیں اور عید کے بعد لگاتار چھ دن میں ایک ساتھ رکھ لیےتب بھی حرج نہیں حوالہ بہارشریعت حصہ پنجم صفحہ1013 دعوت اسلامی 


                  واللہ اعلم ورسولہ اعلم باالصواب 

کتبہ غیاث الدین قادری دارالعلوم شھیداعظم دولہاپور گونڈہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے