دیوبندی کا چندہ مسجد میں لگانا کیسا ہے؟؟؟

               اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے مفتیان عظام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ اگر کوٸی وہابی دیوبندی سنی مسجد میں چندہ دے یا مسجد میں کوٸی کام کرادے جیسے اے سی ھے یا ٹاٸیلس لگوادیں ایسی صورت میں کیا کریں

            ساٸل محمد حسین مھاراشٹرا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                اللھم ھدایة الحق والصواب 

اگر کوئی کافر مسجد میں تعاون کرنا چایے تو مسجد کمیٹی اس سے روپیہ لیکر از خود کوئی سامان خرید کر مسجد میں لگا دے بشرطیکہ وہ فی الحال یا فی المال مسلمانوں پر یا مسجد احسان نہ جتلائے صاحب فتاوی رضا دارالیتامی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ غیر مسلم اپنی مرضی اور خوشی سے جو رقم دیں اس کو مسجد کے طہارت خانے یا وضو خانے کی تعمیر میں لگانا یا مزدور کی مزدوری میں دینا جائز ہے اور اس میں بہتر طریقہ یہ ہیکہ مسلمان کافر سے وہ رقم لیکر اپنی طرف سے لگا دے جیسا کہ ھدایہ میں ہے ان مالھم مباح فی دارھم فای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیہ غدر ھدایہ جلد سوم ص ٨٦ باب الربی من کتاب البیوع البتہ یہ ضرور ہے کہ کفار اگر بطور احسان دیں یا ان سے لینے میں کسی شرعی مصلحت کی خلاف ورزی ہو یا مسلمان مانگ کر ان سے لیں تو یہ ہرگز جائز نہیں حدیث پاک میں ہے انا لانستعین بمشرک سنن ابوداود جلد دوم ص ٣٧٥ باب فی المشرک مایسھم لہ من کتاب الجھاد فتاوی رضا دارالیتامی ص ١٢٦ اور رہی بات وہابیوں دیوبندیوں کا سنی مسجد میں چندہ دینا تو ان فرقہائے باطلہ کا کوئی بھی تعاون جائز نہیں ہے کیوں کہ ان کے تعاون سے سوائے نقصان کے کوئی اور فائدہ نہیں ہے لھذا ان فرقہائے باطلہ سے ہرگز ہرگز مسجد میں چندہ نہ لیاجائے 

                واللہ تعالی اعلم باالصواب

 انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف یوپی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے