خرید و فروخت کی زمین پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟؟؟

              السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

السوال.کیا فرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی زمین کے خریدوفروخت کی تجارت کرتاہے تو کیا وہ زمین جسکو وہ فروخت کرنےکی غرض سے خریدا ہے اس میں بھی زکوۃ نکالنا واجب ہے یا نہیں . جواب مع حوالہ عنایت فرمائیں ..


              سائل عبدالواحد دیناجپوری
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

              الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسؤلہ میں اگر اس زمین کی آمدنی بقدرنصاب ہوجائے اور اس پرحولان حول گزرجائےتواس پرزکوٰۃ واجب ہوگی اوراگرحولان حول نہیں گزرا اس سےپہلےہی فروخت کردیاتوزکوٰۃ واجب نہیںجیساکہ فتاوی یورپ میں ہےجومکان بیچنےکی نیت سےخریداگیاہےاگراس کی مالیت بقدرنصاب ہواور حولان حول ہوجائےتواس پرزکوٰۃ ہےکہ یہ مال تجارت میں شامل ہےاورمال تجارت ان تین چیزوں میں سےجس پرزکوٰۃ واجب ہوتی ہےوہ یہ ہیں 1ثمن2مال تجارت3چرائی کےجانورانکے علاوہ باقی کسی چیزپرزکوٰۃ واجب نہیں فتاوی یورپ صفحہ 291بحوالہ کنزالریحان فی فتاوی ابی النعمان المعروف فتاوی مشاھدی جلداول صفحہ 329

             واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

      کتبہ محمدافسررضاسعدی عفی عنہ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے