کیا قرض دی ہوئی رقم پر بھی زکوٰۃ ہے؟؟؟

            السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

سوال زید نے رمضان سے پہلے اپنے بارہ لاکھ روپیہ ایک ہوٹل والے کو قرض کے طور پر دیا اور ابھی تک اسے وہ رقم نہیں ملی تو کیا ابھی بھی اس پر زکوۃ واجب ہے۔شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

               سائل عارف رضا کانپوری یوپی
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
         وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

              الجواب بعون الملک الوہاب 

جس آدمی کا روپیہ کسی شخص پر باقی ہو تو اسکی زکوۃ اسی شخص پر واجب ہوگی جس کا وہ روپیہ ہے نہ کہ قرض دار پر البتہ ادائیگی اس وقت ہوگی جب کہ قرض لینے والا قرض ادا کردے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکوۃ دیدی تو زکوۃ ادا ہوگئی جیسا کہ فقیہ اعظم ہند حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں؛ کہ اگر قرض ایسے شخص پر جو اسکا اقرار کرتا ہے مگر ادا کرنے میں دیر کرتا ہے جب مال ملےگا سالہائے گذشتہ کی بھی زکوۃ واجب ہے( بہار شریعت حصہ پنجم ص ۱۲)حوالہ؛فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص۲۹۷ در بیان کتاب الزکوۃ

                    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

محمد نعیم خان القادری خطیب و امام جامع مسجد نیسری کولھا پور مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے