کیا عورتوں پر زکوٰۃ صدقہ واجب ہے؟؟؟


            السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورتوں پر بھی زکوٰۃ و صدقہ واجب ہے رہنمائی فرمائیں عین نوازش ہوگی

     سائل محمد شاکر رضوی جہاں آباد یو پی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

               الجواب بعون الملک الوہاب 

ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر زکوۃ فرض ہےزکوۃ واجب ہونے کیلئے چند شرطیں ہیں 1_ مسلمان ہونا؛ کافر پر زکوۃ واجب نہیں 2_ بالغ ہونا؛ نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں 3_ عاقل ہونا؛ کہ جنون اگر پورا سال جنون رہا تو زکوۃ واجب نہیں 4_ آزاد ہونا؛ غلام پر زکوۃ واجب نہیں 5_ مال بقدر نصاب اسکی ملک میں ہونا؛ اگر نصاب سے کم ہے تو زکوۃ واجب نہیں 6_ پورے طور پر اسکا مالک ہونا یعنی اس پر قابض ہونا 7_ نصاب کا دین سے فارغ ہونا یعنی قرض دارنہ ہونا؛ اگر دین کے بعد مال نصاب سے کم ہوتا ہے تو زکوۃ واجب نہیں 8_ نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو؛حاجت اصلیہ۔ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکوۃ واجب نہیں 9_ مال نامی ہونا؛ یعنی بڑھنے والا چاہے حقیقۃ بڑھے یا حکما 10_ سال کا گذر جانا؛ سال سے مراد قمری سال ہے یعنی چاند کے مہینوں سے بارہ مہینےیہ مکمل ۱۰ شرطیں ہونے کے بعد زکوۃ واجب ہوتی ہے اب زکوۃ ادا کریں زکوۃ دیتے وقت یا زکوۃ کے مال علیحدہ کرتے وقت نیت زکوۃ شرط ہےاب اگر یہ شرطیں عورت کے اندر پائی جاتی ہیں یعنی وہ مالک نصاب ہے اور مال پہ سال گذر چکا ہے اور وہ حاجت اصلیہ سے خارج ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہےیہاں میں نے اختصارکے ساتھ قلم بند کیا ہوں مکمل تفصیل کیلئے بہار شریعت، جلد اول، حصہ پنجم ،(زکوۃ کا بیان) (ص875)مطالعہ فرمائیں 

                 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

فقط _ محمد نعیم خان القادری خطیب و امام جامع مسجد نیسری کولھا پور مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے