کیا حلالہ کے نکاح میں مہر مقرر کرنا ضروری ہے


               السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ 

سوال کیا حلالہ کے نکاح میں مہر مقرر کرنا ضروری ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

                    سائل محمد عالم مختار 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

            الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

ہر نکاح کے لئے مہر کا ہونا ضروری ہے چاہے حلالہ کے لئے ہو یا غیر حلالہ کے لئے - جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج و کان اللہ غفورا رحیما " یعنی ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے انکی بیبیوں اور انکے ہاتھ کے مال کنیزوں میں یہ خصوصیت تمہاری اس لئے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے " اھ( سورۂ احزاب آیت :50) اور مہر کی مقدار کم سے کم دس درہم ہے زیادہ کی کوئی حد نہیں جیساکہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ " کم سے کم مہر دس درہم ہے اس سے کم نہیں ہوسکتا " اھ (ح:7/ص:64/ مہر کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی) اور فتاوی ھندیہ میں ہے کہ أقل المھر عشرۃ دراھم مضروبۃ أو غیر مضروبۃ حتی یجوز وزن عشرۃ تبرا و ان کانت قیمتہ أقل کذا فی التبین " اھ ج:1/ص:302/ الباب السابع فی المھر / بیروت) اور درمختار میں ہے کہ أقلہ عشرۃ دراھم لحدیث البیھقی وغیرہ لا مھر أقل من عشرۃ دراھم فضۃ وزن سبعۃ مثاقیل کما فی الزکوۃ مضروبۃ کانت أو لا " اھ( ج:4/ص:230/231/232/ کتاب النکاح / باب المھر / دار عالم الکتب)اور دس درہم موجودہ دور میں دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی کے برابر ہے -ایسا ہی فتاوی رضویہ شریف جلد پنجم ص:500/ ہے -اور دو تولہ ساڑھے سات ماشہ موجودہ وزن کے حساب سے 32.6592/ گرام یعنی بتیس گرام چھ سو انسٹھ ملی گرام دو سو میکرو ملی گرام ہوتا ہے (بحوالہ منتخب فتوے ص:28)

            واللہ تعالیٰ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 28---مئی ---2020---بروز جمعرات

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے