کیا دلال بتائی ہوئی قیمت سے زائد میں فروخت کر سکتا ہے؟



 دلال بتائی ہوئی قیمت سے زائد میں فروخت کر سکتا ہے

حضرت سوال یہ ہے کہ اگر کوئی کہے کہ تو میرے لیے اتنے میں بیچ دے تو کیا دلال اپنی طرف سے اس میں اضافہ کر کے اس اضافہ والی رقم کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اگر نہیں تو جو ایسا کرے اسے کس قسم پر محمول کیا جائے اور اس بیع کو جو ہو چکی ہے کس قسم کی بیع پر محمول کیا جائے گا

الجواب بائع کے اس قول سے کہ تو اتنے مثلا پانچ لاکھ میں بیچ دے عموما اس سے اسکی مراد یہی ہوتی ہے کہ کم ازکم اتنے میں فروخت کریں اس سے کم میں نہیں ہاں زائد ہو تو کوئی حرج نہیں نہ یہ کہ زائد میں بھی نہیں فروخت کر سکتا لہذا وکیل نے متعینہ رقم سے زاید میں فروخت کیا تو یہ توکیل و بیع دونوں درست اور زائد مال کا مستحق بھی موکل ہوگا وکیل نے اگر محنت وکاوش کی وقت ضایع کیا تو وہ مثلی اجرت کا مستحق ہوگا

بہار شریعت میں بحوالہ ہندیہ ہے  توکیل میں موکل نے کوئی قید ذکر کی ہے اس کا لحاظ ضروری ہے اس کے خلاف کرے گا تو خریداری کا تعلق موکل سے نہیں ہوگا ہاں اگر موکل کے خلاف کیا اور اس سے بہتر کیا جس کو موکل نے بتایا تھا تو یہ خریداری موکل پر نافذ ہوگی (ح ١٢،ص٩٨٣)-

اسی طرح مسئلہ مذکورہ میں بھی بیع درست ہوگی اور چونکہ بیع موکل پر نافذ ہوگی تو کل مال کا مستحق بھی موکل ہی ہوگا البتہ موکل نے زائد میں فروخت کرنے سے منع کر دیا تھا تو وکیل کو زائد میں فروخت کرنا درست نہ ہوگا اور نہ ہی اس پر یہ بیع نافذ ہوگی جیسا کہ بہار شریعت میں بحوالہ در مختار ہے وکیل کم یا زیادہ جتنی قیمت کے ساتھ چاہے خرید و فروخت کر سکتا ہے جبکہ تہمت کی جگہ نہ ہو اور موکل نے دام بتاے نہ ہو (ح١٢،ص٩٩١)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد مصباحی قادری

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ