روزے کی حالت میں ناک سے خون نکل آئے تو کیا حکم ہے ؟؟؟

             السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ روزے دار کے ناک سے خون نکلا حالتِ روزہ میں تو اسکا روزہ رہیگا یہ ٹوٹ جائیگا ؟جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

                سائل محمد عالم مختار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

              الجواب بعون الملک الوھاب

ناک سے خون باہر کی طرف نکلا یا اندر کی طرف خون نکل کر حلق تک پہنچا مگر حلق سے نیچے نہیں گیا تو ان سب صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گااور خون نکل کر حلق کے نیچے اتر گیا اور خون کا مزہ محسوس ہوا ان سب صورتوں میں روزہ جاتا رہے گا اور اس کی قضا واجب ہے اور اگر کم تھا اور مزہ محسوس نہیں ہوا تو روزہ نہ گیا٬ جیسا کہ کتب فقہ میں ہے؛دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اترا اور خون تھوک سے زیادہ تھا یا کم تھا مگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ ٹوٹ گیا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی محسوس نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹا؛  (درمختار جلد دوم صفحہ 367 368 کتاب الصوم باب مایفسد الصوم وما لا یفسدہ )(بحوالہ روزہ کے ضروری مسائل صفحہ 46)مطبع اہلسنت و جماعت سینٹر پونے۔(اور ایسا ہی بہار شریعت حصہ پنجم روزہ کے بیان میں ہے) 


                   واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبــــــــــــہ محمـــد معصـوم رضا نوری عفی عنہ منگلور کرناٹک انڈیا ۲۲/ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ ہجری ۱۶/ مئی ۰۲۰۲؁ عیسوی بروز سنیچر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے