کیا سبھی اناجوں کا نصاب الگ الگ ہے؟؟؟

              السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسٸلہ کے بارے کہ جس طرح سے زمین کی پیدا وار پر نصاب سات کنٹل پچیس کلو ہے تو زمین میں بہت سی چیزیں پیدا ہوتی ہے مثلاً گیہو چاول باجرہ مکٸ دھنیا مرچا آلو ٹماٹر لہسن پیاز ادرک اور کوٸی ہری سبزی وغیرہ ان سبھو کا نصاب گیہو کا نصاب لیا جاۓ گا یا ان کا نصاب الگ الگ ہے اور دوسری چیز زمین کے پیداوار میں کون کون سے اناج شامل ہے صرف گیہو یا دھان ہی ہے یا اور بھی اناج اس کے جمرے میں آتے ہیں علماۓ کرام مکمل حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرماے عین نوازش ہوگی فقط والسلام

             ساٸل محمد سلمان برکاتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

               الجواب بعون الملک الوہاب 

گیہوں, جو, جوار, باجرا, دھان, اور ہر قسم کے غلے اور السی, کسم, اخروٹ, بادام, اور ہر قسم کے میوے روئی, پھول, گنا خربزہ, تربز (تربوز و خربوزہ) کھیرا, ککڑی, بیگن اور ہر قسم کی ترکاری سب میں عشر واجب ہے تھوڑا پیدا ہو یا زیادہ " اھ( بہار شریعت ح:5/ص:918/ زراعت اور پھلوں کی زکوٰۃ کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)اور فتاوی ھندیہ میں کہ و یجب العشر عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ فی کل ما تخرجہ الارض من الحنطۃ والشعیر والدخن والارز و اصناف الحبوب والبقول والریاحین والاوراد والرطاب و قصب السکر والذریرۃ والبطیخ والقثاء والخیار والباذنجان والعصفر و اشباہ ذالک مما لہ ثمرۃ باقیۃ او غیر باقیۃ قل او کثر ھکذا فی فتاوی قاضیخان " اھ( ج:1/ص:186/ الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار / بیروت)عشر میں نہ سال گزرنا شرط ہے اور نہ نصاب بلکہ ایک صاع بھی پیداوار ہو تو اس پر عشر واجب ہے جیساکہ بہار شریعت میں ہے کہ عشر میں سال گزرنا بھی شرط نہیں بلکہ سال میں چند بار ایک کھیت میں زراعت ہوئی تو ہر بار عشر واجب ہے اس میں نصاب بھی شرط نہیں ایک صاع بھی پیداوار ہو تو عشر واجب ہے " اھ اور اسی میں ہے کہ جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے اس میں عشر یعنی دسواں حصہ ( ایک کنتل پر دس کلو) واجب ہے اور جسکی آبپاشی چرسے (چمڑے کا بڑا ڈول) یا ڈول سے ہو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ (ایک کنتل پر پانچ کلو) واجب اور پانی خریدکر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی ملک ہے اس سے خریدکر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر (ایک کنتل پر پانچ کلو) واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چرسے سے تو اگر اکثر مینھ (برسات) کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر (ایک کنتل پر دس کلو) واجب ہے ورنہ نصف عشر (ایک کنتل پر پانچ کلو) واجب " اھ( ج:5/ص:917/918/ زراعت اور پھلوں کی زکوٰۃ کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)اور درمختار میں ہے کہ (و) تجب فی (مسقی سماء) أی مطر (وسیح) کنھر (بلا شرط نصاب) راجع للکل (و) بلا شرط (بقاء) و حولان حول یجب العشر (و) یجب (نصفہ فی مسقی غرب) أی دلو کبیر (و دالیۃ) أی دولاب لکثرۃ المؤنۃ و فی کتب الشافعیۃ او سقاہ بماء اشتراہ و قواعدنا لا تأباہ ولو سقی سیحا وبآلۃ اعتبر الغالب ولو استویا فنصفہ " اھ اور ردالمحتار میں ہے کہ (بلا شرط نصاب ) وبقاء - فیجب فیما دون النصاب بشرط ان یبلغ ببصاعا و قیل نصفہ (و حولان حول) حتی لو اخرجت الارض مرارا وجب فی کل مرۃ " اھ( ج:3/ص:265/266/268/269/ کتاب الزکوۃ / باب العشر / دار عالم الکتب)  پیداوار پر نصاب سات کنتل پچیس کلو کہنے والا نرا جاہل اور شرعی مسائل سے غافل ہے - مذکورہ حوالہ جات سے معلوم ہوگیا کہ عشر میں نہ حولان حول یعنی سال گزرنا شرط ہے اور نہ نصاب 

           واللہ تعالیٰ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 21---مئی ---2020---بروز جمعرات

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے