6.23.2020

کیا کوئی شخص دو پیروں سے مرید ہو سکتا ہے


               اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

ایک سوال ہے آپ حضرات کی بارگاہ میں کیا کوٸی شخص ایک پیر سے مرید ہونے کے بعددوسرے پیر سے مرید ہوسکتا ہے؟وضاحت ودلیل کے ساتھ جواب ارسال فر مایں بہت مہربانی ہوگی

            ساٸل محمد فریدالدین خان ممبٸ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

                الجواب بعون الملک الوھاب 

ایک پیرسے مرید ہونےکےبعد دوسرےپیرسےمرید نہیں ہوسکتا ہے ہاں طالب ضرور ہوسکتاہے کسی بھی سنی صحیح العقیدہ پیرسے ہوجائےلیکن مریدنہیں ہوسکتادوبارہ جیساکہ سرکاراعلی حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی فرماتےہیں جوشخص کسی شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت ہوچکاہوتودوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ چاہئےاکابرطریقت فرماتے ہیں:لایفلح مرید بین شیخین) جومرید دوپیروں کے درمیان مشترک ہووہ کامیاب نہیں ہوتاخصوصا جبکہ اس سے کشودکاربھی ہوچکاہو، حدیث میں ارشادہوا(من رزق فی شیئ فلیلزمہ) جسے اﷲ تعالی کسی شیئ میں رزق دے وہ اس کولازم پکڑے(شعب الایمان جلد دوم) دوسرے جامع شرائط سے طلب فیض میں حرج نہیں اگرچہ وہ کسی سلسلہ صریحہ کاہواوراس سے جو فیض حاصل ہواسے بھی اپنے شیخ ہی کافیض جانے (فتاوی رضویہ شریف مترجم جلد26) ہاں اگر پیر کےاندر شرائط مکمل ناپائےجاتےہوتو ایسےپیرکی بیعت توڑنےمیں حرج نہیں بلکہ بہترہےکہ ایسےپیرکی بیعت توڑ کرکسی ایسےسےبیعت ہوجس کےاندرمکمل شرائط پائےجاتےہو

                     واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ 

        کتبہ محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only