6.23.2020

امام سے چوری کرنا ثابت ہو جائے تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے


              السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب سے چوری کرنا ثابت ہو جائے تو اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ہوگی یا نہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

               سائل محمد سعید احمد صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

                 الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی یعنی دہرانا واجب ہے کیونکہ چوری کرنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے حدیث شریف میں ہے عن ابی ھریرةعن النّبیﷺقال لعن اللہ السارق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے چور پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے(بخاری و مسلم ماخوذ انوارالحدیث ص٣٥٣)ایسے امام کو چاہئے کہ سچے دل سے علانیہ توبہ کرے اور مال مسروقہ واپس کردے اور آئندہ چوری نہ کرنے کا عہد کرے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہےحدیث شریف میں ہے التّاٸب من الذنب کمن لاذنب لہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے پاک ہو جاتا ہے کہ جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو اور اگر توبہ نہ کرے تو منصب امامت سے ہٹادیا جائے. 

                  واللہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only