امام سے چوری کرنا ثابت ہو جائے تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے


              السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب سے چوری کرنا ثابت ہو جائے تو اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ہوگی یا نہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

               سائل محمد سعید احمد صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

                 الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی یعنی دہرانا واجب ہے کیونکہ چوری کرنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے حدیث شریف میں ہے عن ابی ھریرةعن النّبیﷺقال لعن اللہ السارق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے چور پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے(بخاری و مسلم ماخوذ انوارالحدیث ص٣٥٣)ایسے امام کو چاہئے کہ سچے دل سے علانیہ توبہ کرے اور مال مسروقہ واپس کردے اور آئندہ چوری نہ کرنے کا عہد کرے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہےحدیث شریف میں ہے التّاٸب من الذنب کمن لاذنب لہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے پاک ہو جاتا ہے کہ جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو اور اگر توبہ نہ کرے تو منصب امامت سے ہٹادیا جائے. 

                  واللہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0