6.26.2020

کا فر کے گھر کھانا کیسا ہے؟


                السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ

مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مسلم اپنے والدین کے چہلم کے موقع پر ہم مسلمانوں کو کھانا کھانے کی دعوت دے تو وہ کھانا مسلمانوں کے لئے کھانا جائزوگا یا نہیں؟اور اگر اس کھانے کے بدلے میں پیسہ دے تو اس پیسے کو کسی جگہ استعمال میں لاسکتے ہیں یا نہیں؟بینوا توجروا

المستفتی:۔شفاء الدین احمد قادری پالاجوری دیوگھر جھارکھنڈ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
               وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ 

                       الجواب بعون المک الوہاب

کا فر کے گھر گو شت کھانا جائز نہیں کہ ان کا ذبیحہ حرام ہے اور اگر مسلمان کا ذبیحہ ہو جب بھی کھانا جا ئز نہیں کہ نظر مسلم سے اوجھل رہا ہاں اگر مسلمان ذبح کرے اور کھانے تک مسلمان کی نظر سے اوجھل نہ ہوا ہو تو اس کا کھانا جا ئز ہے اور اگر نظر مسلم سے اوجھل ہو گیا جب تو جا ئز نہیں یو نہی غیر ذبیحہ شیئ کا کھاناجائز نہیں جب کہ اس میں کو ئی حرام شیئ ملی ہو اور اگر حرام شیئ کا ملا ہو نا معلوم نہ ہو تو غیر ذبیحہ کا کھانا جا ئز ہے مگر بچنا افضل ہے سیدی سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرما تے ہیں کہ ہندوں کے یہاں کا گوشت حرام ہے جب تک وہ گوشت اس جانور کا نہ ہو جسے مسلمان نے ذبح کیا اور اس وقت تک مسلمان کی نظر سے غائب نہ ہوا باقی کھانے اگر ان میں وجہ حرمت نہ معلوم ہو تو حلال ہیں۔(فتاوی رضو یہ جلد ۲۳/ص۹۶ /دعوت اسلامی) نیز فرما تے ہیں ہندو کے یہاں کا کھانا اگر گوشت ہے حرام ہے اور اس کے سوا ار چیزیں مباح ہیں، جب تک ان کی حرمت یانجاست تحقیق نہ ہو، اوربچنااولی۔ (فتاوی رضو یہ جلد۲۱/ص۶۶۸ /دعوت اسلامی) مکرو فریب سے نہ حاصل کیاجا ئے تو جس طرح ملے جا ئز ہے لے سکتے ہیں سید سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے پو چھا گیا کہ کا فر اگر ہو لی یا دیوالی کے دن مٹھا ئی دے تو لینا کیسا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ جواب میں تحریر فرما تے ہیں کہ کافر اگر ہو لی یا دیوالی کے دن مٹھا ئی دیں تو نہ لے ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لیں مگر یہ نہیں سمجھیں کہ ان کے خبثاء کے تہوا کی مٹھا ئی ہے بلکہ مال موذی نصیب غازی سمجھے۔(الملفوظ ح اول ص ۱۶۳) حاصل کلام یہ ہے کہ کا فر سے بلا مکر وفریب جو بھی حاصل ہو لینا جائز ہے اور اس کو جس کام میں چا ہیں استعمال کر سکتے ہیں شرعا کو ئی حرج نہیں

                        ۔واللہ اعلم بالصواب  

کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۳۰/ شوال المکرم ۱۴۴۱ھ  ۲۳/ جون ۲۰۲۰ء بروز منگل

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only