6.23.2020

قاتل کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟)


               السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ

مسئلہ:۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ماضی میں اپنی بیوی کو قتل کیا تھااور اب وہ توبہ تائب ہوا اس نے داڑھی بھی رکھ لی ہے اور ایک پیر صاحب کا مرید بھی ہو گیا ہے لیکن مقتول کے وارثوں نے اس کو معاف نہیں کیا۔اور وہ جس بستی میں رہتا ہے اس مسجد کے امام صاحب نہ ہو ں تو وہ جماعت کرواتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟اور جو لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ قاتل ہے اس کے پیچھے نماز ہوتی بھی ہے کہ نہیں؟ایسی باتیں بھی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز بھی پرھتے ہیں ان لوگوں کا اس طرح کہنا کیسا؟جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں 

المستفتی:۔محسن احمد عطار ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ 

                        الجواب بعون الملک الوہاب

قتل و خون ریزی بہت بڑا گناہ یعنی گناہ کبیرہ ہے ایسا شخص مستحق عذاب ہے اگر اسلامی حکومت ہوتی توقصاص میں اسے بھی قتل کردیاجا تا چونکہ اسلامی حکومت نہیں ہے اس لئے فقہا نے فرمایا ایسے شخص کا سماجی با ئیکاٹ کیا جا ئے جب تک کہ سچے دل سے تو بہ نہ کر لے،لیکن سوال سے ظا ہر ہے کہ شخص مذکورہ نے تو بہ کرلیا داڑھی بھی رکھ تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادیگا کہ وہ غفور الرحیم ہے اور توبہ کو پسند فرماتا ہے ارشاد ربانی ہے ”اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّْنُوْا فَاُولٰٓءِکَ اَ تُوْبُ عَلَیْہِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ“مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان۔(سورۃ البقرۃآیت نمبر ۱۶۰) نیز فرماتاہے”اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ“ بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو۔(سورۃ البقرۃآیت نمبر ۲۲۲) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”التائن من الذنب کمن لا ذنب لہ“گناہ سے تو بہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جس نے کو ئی گناہ نہ کیا ہو۔(سنن ابن ماجہ) چونکہ یہ حقوق العبد ہے اس لئے تو بہ کے علاوہ زوجہ کے گھر والوں سے بھی معافی معانگے اور اگر مانگنے کے بعد وہ لوگ معاف نہیں کرتے ہیں تو اپنے رب کی طرف لولگائے رکھے عبادت کرتا رہے وہ قادر مطلق ہے بروز حشر انہیں کو ئی نعمت دیگر یا جنت دیکر راضی کرلے گا۔ رہی نماز کی بات تو اگر وہ امامت کا مستحق ہے تو نماز پڑھا سکتا ہے بعد توبہ اقتداء درست ہے اور جو لوگ پڑھتے بھی ہیں اور زید کے متعلق دل میں کجی رکھتے ہیں انہیں سمجھایا جا ئے کہ بعد تو بہ کو ئی کراہت نہیں ہے آپ لوگ اپنے دل کو صاف رکھیں انصاف کرنے والا اللہ ہی کی ذات ہے

                         ۔واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۲۸/ شوال المکرم ۱۴۴۱ھ ۲۱/ جون ۲۰۲۰ ء بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only