6.23.2020

قربانی کا جانور کس طرح ہو نا چا ہئے؟


                  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ

مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ قربانی کا جانور کس طرح ہو نا چا ہئے؟بینوا توجروا 

           المستفتی:۔ شمس الدین راج گرو نگر(کھیڑ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکا تہ

                      الجواب بعون المک الوہاب

قربانی کا جانور تندرست و فربہ ہوناچا ہئے، بکرہ بکری ایک سال گائے بھینس دوسال اونٹ پانچ سال کا ہونا چاہئے ہاں دنبہ بھیڑ چھ ماہ کا ہو جبکہ دیکھنے میں ایک سال کا لگے تو جائز ہے. تمام عیب سے خالی ہونا چاہئے حدیث شریف میں ہے ”عَنْ عَلِیٍّ قَالَ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَیْنَ وَالْاُذُنَ وَاَنْ لَّا نُضَحِّیَ بِمُقَابَلَۃٍ وَلَا مُدَآبَرَۃٍ وَّلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَلنِّسَاءِیُّ وَالدَّارِمِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَانْتَھَتْ رِوَایَتُہ، اِلَی قَوْلِہٖ وَالاذُن“ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آنکھ اور کان کو خوب اچھی طرح دیکھ لیں (کہ کوئی ایسا عیب اور نقصان نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ) ہم اس جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان اگلی طرف سے یا پچھلی طرف سے کٹا ہوا ہو اور نہ اس جانور کی جس کی لمبائی پر چرے ہوئے اور گولائی میں پھٹے ہوئے ہوں۔(مشکوٰۃ المصابیح،قربانی کا بیان،حدیث نمبر ۱۴۳۷) علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرما تے ہیں کہ جس جانور میں جنوں ہے اگر اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں ہے تو اس کی قربانی ناجائز ہے اور اس حد کا نہیں ہے تو جائز ہے۔ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لئے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لئے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اوترتا ہو ان سب کی قربانی جائز ہے۔ خارشتی جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں۔ (الدرالمختاروردالمحتارکتاب الأضحیۃ، ج۹، ص۵۳۵)خلاصہ کلا یہ ہے کہ جانور تمام عیوب سے خالی ہونا چاہئیاگر تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ (تنزیہی) ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں۔

                     واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۲۸/ شوال المکرم ۱۴۴۱ ھ   ۲۱/ جون ۲۰۲۰ ء بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only