6.17.2020

جس کے پاس کئی لاکھ کے فلاٹ ہوں کیا اس پر قربانی واجب ہے؟


                 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ

کیا فرما تے ہیں ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہزید کے پاس بینک بیلنس نہیں ہے مگر دو فلاٹ ہے جس کی قیمت کئی لاکھ ہے تو کیا زید پر قربانی واجب ہے؟بینوا توجروا

                      المستفتی:۔عبد الستار پونہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکا تہ

                      الجواب بعون المک الوہاب

قربانی واجب ہو نے کے لئے بینک بیلنس ہو نا ضروری نہیں بلکہ حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کا مالک ہو نا ،خواہ وہ نقد ہو یا سامان کی قیمت ہو یا گھر ہو یا گھیت گاڑی وغیرہ صورت مسؤلہ میں زید پر قربانی واجب ہے کیونکہ فلاٹ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس میں گرمی وٹھنڈی دونوں موسم گزر بسر کر سکتے ہیں اور دوسرا بھاڑے پر ہی ہوتا ہے لہذا زید پرقربانی واجب ہے سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ زید کے پاس مکان سکونت کے علا وہ دو ایک اور ہوں تو اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟تو آپ رضی اللہ عنہ جواب میں تحریر فرما تے ہیں کہ واجب ہے جبکہ وہ مکان تنہا یا اس کے اور مال سے کہ حاجت اصلیہ سے زائد ہومل کر چھپن روپے کی قیمت کو پہنچیں، اگر چہ مکانوں کو کرایہ پر چلاتاہو یا خالی پڑے ہوں یا سادی زمین ہوبلکہ مکان سکونت اتنا بڑا ہے کہ اس کا ایک اس کے جاڑے گرمی کی سکونت کے لئے کافی ہو اور دوسرا حصہ حاجت سے زائد ہو اور اس کی قیمت تنہا یا اسی قسم کے مال سے مل کر نصاب تک پہنچے جب بھی قربانی واجب ہے۔ اسی طرح صدقہ بھی۔ (فتاوی رضویہ جلد ۲۰/ ص ۳۶۱/ دعوت اسلامی) اور علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرما تے ہیں کہ ایک مکان جا ڑے کے لئے اور ایک گرمی کے لئے یہ حاجت میں داخل ہے ان کے علاوہ اس کے پاس تیسرا مکان ہو جو حاجت سے زائد ہے اگر یہ دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے اسی طرح گرمی جاڑے کے بچھونے حاجت میں داخل ہیں اور تیسرا بچھونا جو حاجت سے زائد ہے اوس کا اعتبار ہوگا۔ غازی کے لیے دو گھوڑے حاجت میں ہیں تیسرا حاجت سے زائد ہے۔ اسلحہ غازی کی حاجت میں داخل ہیں ہاں اگر ہر قسم کے دو ہتھیار ہوں تو دوسرے کو حاجت سے زائد قرار دیا جائے گا۔ گاؤں کے زمیندار کے پاس ایک گھوڑا حاجت میں داخل ہے اور دو ہوں تو دوسرے کو زائد مانا جائے گا۔ گھر میں پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے وقت پہننے کے کپڑے اور جمعہ و عید اور دوسرے موقعوں پر پہن کر جانے کے کپڑے یہ سب حاجت میں داخل ہیں اور ان تین کے سوا چوتھا جوڑا اگر دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے۔(ردالمحتارکتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۱/بحوالہ بہار شریعت ح ۱۵/ قرانی کا بیان)

                          واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۲۳/ شوال المکرم ۱۴۴۱ھ ۱۶/ جون ۲۰۲۰ء بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only