6.23.2020

نائٹ پینٹ پہن کر امامت کرنا کیسا ہے؟)


                    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

مسئلہ:۔کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں امام نے نماز پڑھائی اس حالت میں کی اس نے اوپر کر تا پہنا ہو ا تھا اور نیچے آج کل جو رات میں پہنتے جس کو نائٹ پینٹ اور ٹِیْرَاک پینٹ بھی کہا جا تا ہے تو کیا نما ز ہو جا ئے گی یا نہیں؟ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں 

المستفتی:۔محمد شہباز قادری دیگلور ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکا تہ

                   الجواب بعون المک الوہاب

نائٹ پینٹ پہن کرنماز پڑھنا پڑھانا مکروہ تنزیہی ہے کیوں کہ یہ کام کاج کے کپڑے ہیں جبکہ دوسرا موجود ہو جیسا کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرما تے ہیں کہ و ہ کپڑے جن کو آدمی اپنے گھر میں کام کاج کے وقت پہنے رہتاہے جنہیں میل کچیل سے بچایا نہیں جاتا انہیں پہن کرنماز پڑھنی مکروہ ہے،تنویرالابصار و درمختار میں ہے”کرہ صلوتہ فی ثیاب بذلۃ (یلبسھا فی بیتہ) (ومھنۃ) ای خدمۃ ان لہ غیرھا“کام کے کپڑوں میں نماز مکروہ ہے(وہ کپڑے جوگھر میں پہنتاہے) (اور صنعت کے کپڑوں میں) یعنی خدمت والے اگر اس کے پاس دوسرے کپڑے ہوں (درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ /۹۱) درر و غرر و شرح وقایہ و مجمع الانہر و بحرالرائق و ردالمحتار میں ان کی تفسیر کی”مایلبسہ فی بیتہ ولایذھب بہ الی الاکابر“جوکپڑے صرف گھرمیں پہنتاہو وہ پہن کراکابر کے ہاں نہ جاتاہو۔(ردالمحتار مطلب مکروہات الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۷۴) غنیہ میں اُن کی تفسیرکی”مالایصان ولایحفظ من الدنس ونحوہ“ جن کپڑوں کووہ میل کچیل سے محفوظ نہ رکھتا ہو(غنیہ المستملی فصل کراہتیہ الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہورص۳۴۹) اُسی میں ہے”یکرہ تکمیلا لرعایۃ الادب فی الوقوف بین یدیہ تعالی بما امکن من تجمیل الظاھر والباطن وفی قولہ تعالی خذوا زینتکم عند کل مسجد اشارۃ الی ذلک وان کان المراد بھا سترالعورۃ علی ماذکرہ اھل التفسیر کما تقدم“اللہ تعالی کی بارگاہ اقدس میں ظاہری وباطنی جمال کا حصول اس بارگاہ کے آداب میں سے ہے اور اللہ تعالی کے ارشادِ گرامی ''تم ہرمسجد میں جانے کے وقت زینت اختیار کرو'' میں اسی طرف اشارہ ہے اگرچہ اس سے مراد سترِعورت ہے جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا۔(غنیہ المستملی فصل کراہیۃ الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹/ بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ۷/ ص۳۷۹/۳۷۸/دعوت اسلامی) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ان کپڑوں میں نماز مکروہ تنزیہی ہے جو کام کاج کے لئے ہوں اور میلا کچیلا ہو اور انہیں پہن کر بازار یا مہمان کے گھر نہ جایا جاتا ہو اور اگر نائٹ پینٹ نیا تھا یا اس قدر تھا کہ اسے پہن کر بازار یا مہمان کے گھر جا سکتے ہیں تو مکروہ بھی نہیں ۔ 

                           واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۲۸/ شوال المکرم ۱۴۴۱ھ ۲۱/ جون ۲۰۲۰ء بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only