(دیواروں پر یا اللہ یا محمد لکھنا کیسا ہے؟)


               السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ

کیافرماتے ہیں علمائے و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اکثر مسجدوں میں ایک طرف یا اللہ اور دوسرے طرف یا محمد لکھتے ہیں تو مسجد کی دیوار پر لفظ یامحمد لکھنا از روے شرع کیساہے؟ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں 

       المستفتی:۔محمد شکیل احمد کٹیہار(بہار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

     الجواب بعون الملک الوھاب ھو الھادی الی الصواب 

یا محمد کہنا،لکھنا حرام ہے کیونکہ کہ یہ سوئے ادب یعنی ادب کے خلاف ہے جیسے والد،پیر،استاد کو نام لیکر پکارنا منع ہے کہ بے ادبی ہے تو نبی کریم علیہ السلام کا نام لیکر پکارنا کیونکر جائز ہوگا ارشاد خداوندی ہے”لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا“یعنی رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو(کنز الایمان سورہ نور۶۳) اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد اعظم امام احمد رضاخاں علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرما تے ہیں کہ نام پاک لے کر ندا کرنا حرام ہے، اگرروایت میں مثلا یا محمد آیا ہو تو اس کی جگہ بھی یا رسول اللہ کہے، ا س مسئلہ کا بیان عظیم الشان فقیر کے”رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین“میں دیکھئے۔(فتاوی رضویہ جلد ۱۵/ص ۱۷۲/ دعوت اسلامی) ہاں اگر یا اللہ یا رسول اللہ لکھنا چاہیں تو کندہ کراکے لکھ سکتے ہیں پینٹ وغیرہ سے نہ لکھیں کہہ چھوٹ کر گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور ایسی صورت میں پاؤں کے نیچے پڑے گا جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے ”لیس بمستحسن کتابۃ القرآن علی المحاریب والجدران لما یخاف من سقوط الکتابۃوان تؤطا''(ج۱/ ص ۱۰۹) اور علامہ صدرر الشریعہ علیہ الرحمہ حریر فرما تے ہیں کہ مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر قرآن لکھنا اچھا نہیں کہ اندیشہ ہے وہاں سے گرے اور پاوں کے نیچے پڑے،اسی طرح مکان کی دیواروں پر کہ علت مشترک ہے۔(بہار شریعت ح ۳/ احکام مسجد) لیکن یاد رہے کہ مسجد میں قبلہ کی جانب مصلیوں کے موضع نظر تک نہ لکھی جا ئے کہ مکروہ ہے اور اس سے نمازی کا دل بٹے گا،ہاں اگر موضوع نظر سے اوپر ہے تو حرج نہیں جیسا کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرما تے ہیں کہ”بیشک دیوار قبلہ میں عام مصلیوں کے موضع نظر تک کوئی ایسی چیز نہ چاہئے جس سے دل بٹے اور ہو تو کپڑے سے چھپا دی جائے۔احمد و ابوداؤد عثمان بن طلحہ رضی ا للہ تعالی عنہ سے راوی”ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دعاہ بعد دخولہ الکعبۃ فقال انی کنت رأیت قرنی الکبش حین دخلت البیت فنسیت ان آمرک ان تخمرھا فخمرھما فانہ لاینبغی ان یکون فی قبلۃ البیت شء یلھی المصلی“رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دخول کعبہ کے بعد انہیں بلایا اور فرمایا جب میں بیت اللہ میں داخل ہو تو میں نے دنبے کے دوسینگ دیکھے مجھے تجھ سے یہ کہنا یاد نہ رہا کہ انھیں ڈھانپ دو، کیونکہ قبلہ بیت اللہ میں ایسی کسی شیئ کا ہونا مناسب نہیں جو نمازی کو مشغول کردے۔(مسند امام احمد بن حنبل مروی ازامرأۃ ام عثمان بن طلحہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵/۳۸۰) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کعبہ معظمہ میں تشریف فرماہوئے عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کلید بردار کعبہ کو طلب فرماکر ارشاد فرمایاہم نے کعبہ میں دنبے کے سینگ ملاحظہ فرمائے تھے (دنبہ کہ سید نا سمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ ہوا اس کے سینگ کعبہ معظمہ کی دیوار غربی میں لگے ہوئے تھے) ہمیں تم سے یہ فرمانا یا دنہ رہا کہ ان کو ڈھانک دو اب ڈھانکو کہ نمازی کے سامنے کوئی چیز ایسی نہ چاہئے جس سے دل بٹے۔ ہاں اگر اتنی بلند ی پر ہو کہ سر اٹھا کر دیکھنے سے نظر آئے تو یہ نمازی کا قصور ہے، اسے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا نا کب جائز ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ”لینتھین اقوام یرفعون ابصار ھم الی السماء فی الصلوٰۃ اولتخطفن ابصار ھم“وہ جو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں یا تو اس سے باز آئیں گے یا ان کی نگاہ اچک لی جائیگی یعنی واپس نہ آئے گی اندھے ہوجائیں گے۔ اسے امام احمد مسلم اور نسانی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب النہی عن رفع البصر الی السماء الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/۱۸۱/بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ۸/ص ۱۲۲/دعوت اسلامی)خلاصہ کلام یہ ہے کہ گھر ہو یا مسجد یا عید گاہ یا محمد لکھنا حرام ہے بلکہ یا رسول اللہ لکھا جا ئے وہ بھی کندہ کراکے تاکہ گرنے کا اندیشہ نہ ہو اور اگر مسجد میں قبلہ کی طرف ہو مصلی کے موضوع نظر سے اوپر ہو۔

                       واللہ اعلم بالصواب

 کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۱۳/ شوال المکرم ۱۴۴۱؁ ھ  ۷/ جون ۲۰۲۰ بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے