6.20.2020

اگر نماز میں انگوٹھا ہل گیا تو کیا نماز نہیں ہوتی؟؟


                السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے سنا ہے کہ پاؤں کا انگوٹھا اگر جگہ ہل گیا تو نماز نہیں ہوتی کیا یہ درست ہے؟ اگر نہیں تو اسکا شرعی حکم کیا ہے 

                  سائل؛- محمد عابد حسین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                 الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

عام طور سے دیہاتوں میں اس کو بہت برا جانتے ہیں- یہاں تک کہ نماز میں داہنے پیر کا انگوٹھا اگر تھوڑا بہت سرک جائے, تو نماز نہ ہونے کا حکم لگا دیتے ہیں, بعض لوگ اس انگوٹھے کو نماز کی کِلیا یا کھونٹا کہتے بھی سنے گئے ہیں, یہ سب جاہلانہ باتیں ہیں, کسی بھی پیر کا انگوٹھا سرک جانے سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی ہاں بلاوجہ نماز میں قصداً کوئی حرکت کرنا' خواہ جسم کے کسی حصہ سے ہو، عبث ومکروہ (تنزیہی )ہے-"حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ داہنے پیر کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا' تو کوئی حرج نہیں ہاں مقتدی کا انگوٹھا داہنے یا بائیں یا آگے یا پیچھے اتنا ہٹا کہ جس سے صف میں کشادگی پیدا ہو، یا سینہ صف سے باہر نکلے تو مکروہ ہے, الخ(فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحه 370)خلاصہ یہ ہے کہ عوام میں جو مشہور ہے کہ نماز میں داہنے پیر کا انگوٹھا اگر اپنی جگہ سے تھوڑا سا بھی سرک جائے تو نماز نہیں ہوتی,, یہ ان کی جہالت اور غلط فہمی ہے["ماخوذ؛ غلط فہمی اور ان کی اصلاح صفحه 30"]

                           واللہ اعلم بالصواب

              کتبہ العبد فقیر محمد عمران رضا ساغر

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only