6.20.2020

دیوبندی کا نکاح پڑھانے والے پر کیا حکم ہے


                 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

ایک سوال ہے کہ اگر سںنی امام نے وہابی کا نکاح پڑھایاتو اس پر کیا حکم ہے اس سوال کا جواب حوالہ کے ساتھ دے مہر با نی ہو گی

                سائل محمد شہباز رضا بہار الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ 

               الجـــــــواب بعون الملکـــــ الوھاب 

وہابی دیوبندی کا نکاح پڑھانا ناجائز وحرام ہے کیونکہ وہ کافر و مرتد ہیں جیسا کہ امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں وہابی دیوبندی قطعاً کافر و مرتد ہیں(فتاوی رضویہ جلد ششم ص 90)زید اگر اس کے عقائد باطلہ سے واقف تھا اور پھر اسے مسلمان سمجھ کر یا نکاح جائز سمجھ کر پڑھایا تو یہ کفر ہے یعنی زید اسلام سے خارج ہوگیا اور اسکی بیوی اسکے نکاح سے نکل گئی(کتب فتاوی)اور اگر روپئے کی لالچ میں یا کسی اور چاپلوسی کی وجہ سے پڑھایا تو اعلانیہ توبہ لازم ہے اگر اعلانیہ توبہ نہ کرے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اسکا سماجی بائیکاٹ کریں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے(واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکر مع القوم الظلمین)اور اگر وہ دیوبندی صرف نام کا دیوبندی ہے یعنی وہ عقائد باطلہ سے واقف نہیں ہے اور نہ ہی اس کے قول فعل سے ظاہر ہے تو زید گنہگار نہیں مگر پھر بھی احتیاط توبہ کرلے نــوٹ قاضی کو بھی چاہئے کہ پہلے معلوم کرلے پھر نکاح پڑھائے احتیاطاً توبہ کر لیں اور نکاحانہ پیسہ واپس کر دیں اور نکاح نہ ہونے کا اعلان کریں 

                     واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ العبد ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only