بغیر طلاق کے دوسرا نکاح کرنا کیسا ہے

                 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 

بعد سلام کے عرض خدمت یہ ھیکہ زید نے شادی کی اور شادی کے ایک سال کے بعد زید کمانے کے لیے ممبئی گیا زید کی بیوی بکر کے ساتھ رہنے لگی اور چند دنوں میں بکر سے نکاح کر لیا اور جس عالم نے نکاح پڑھایا اس نے زید سے فون پر بات کی تو زید نے کہا میں نے طلاق نہیں دیا حاصل کلام اس عالم کا کہنا ہے کہ حرام کاری کی وجہ سے نکاح جائز ہے علماء کرام سے پر خلوص گزارش ھیکہ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی اشد ضرورت ہے اور اس عالم پر شریعت کا کیا حکم ہے

            سائل گوہر رضا بارہ بنکی یو پی الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ 

                    الجواب بعون الملک الوھاب 

شوہر اول کے ہوتے ہوئے دوسرے سے نکاح کرنا ناجائز و حرام ہے اگر کیا تو زنا ہوگا )وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ- وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو صراط الجنان سورہ نساء آیت ٢٣ شوہر اول طلاق دیدے یا انتقال کر جاۓ تو بعد عدت دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے ھکذا فی فتاوی خلیلیہ جلد دوم صفحہ ١٥٠ صورت مسئولہ میں جب زید کی بیوی کا نکاح بکر کے ساتھ کرنا ناجائز وحرام ہے ان دونوں کو چاہیے کہ فوراً جدا ہو جائیں اور ان دونوں پر توبہ واستغفار لازم ہے اور قبول توبہ کے لئے میلاد و قرآن خوانی و صدقہ و خیرات کرے اور جس نے بدکاری کی وجہ سے نکاح کو جائز قرار دیا وہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار لائق غضب جبار ہے اس پر توبہ وتجدید ایمان لازم ہے اور فوراً ان دونوں کے نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان عام کر کے دونوں کو جدا کرے اور نکاحانہ روپیہ واپس کرے اور اگر ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان ان سب کا سماجی بائیکاٹ کرے رب کا ارشاد ہے اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (سورہ انعام آیت٦٨) 

                   واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ ١٤شوال المکرم ١٤٤١ * ٨ جون ٢٠٢٠

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے